Showing posts with label فیچر. Show all posts
Showing posts with label فیچر. Show all posts

Sunday, 6 March 2016

لوگ کیا کہیں گے

Revised
 still composing mistkaes, Needs proper prargraphing
 ثناءشےخ
رول نمبر:۵۵
مےڈےا اےنڈ کمےونےکےشن
اےم اے (پرےوےس)
 فےچر
﴾لوگ کےا کہےں گے﴿ 
کہنے کو تو یہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے۔مگر دیکھا جائے تو ےہ تین الفاظ اور اےک سوال جو روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شخص کی زندگی ان کی خواہشات ،اور آرمانوں کو کچل رہا ہے ۔ایک ایسا سوال جہاں انسان کی ہر سوچ مفلوج ہوجاتی ہے ا نسان سوچتا بہت کچھ ہے مگر کرتا وہ ہی ہے جو عجیب الخلقت اس سے کروانا چاہتی ہے مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا،رائے ذاتی ہو ےا سماجی ،پر سوال ایک ہی ”کیا کہیں گے لوگ“ آخر کیا کہیں گے لوگ ہم کیوں سوچتے ہےںانسان خود سے زیادہ کیوں لوگوں کے خیالات پرمبنی ہے ےقےنا آپ نے بھی بچپن میں جب کبھی کوئی نیا کام کرنے کا ارادہ کیا ہوگا تو گھر سے ےہ جملہ ضرور سننے کو ملا ہوگا © © © © © © ”کہ لوگ دےکھےں تو کےا کہیں گے؟ ثقافت اور تہذیب کے نام پر کتنے ہی لوگوں کی زندگیوں کا فےصلہ سنا دےا جاتا ہے، کتنے ہی قصبے،گاﺅں،گوٹھ ہےںجہاں نہ لڑکی باہر پڑھنے جا سکتی ہے نہ اپنی مرضی سے اسے شادی کرنے کا کوئی حق ہے ۔آج بھی برادری اور ذات پات کے نظام نے ہزاروں لڑکےوں سے ان کے خواب ،ان کی آزادی چھین لی ہے اور وجہ کےا ؟ صرف ایک سوال لوگ کیا کہیں گے؟
میرے قصے میں یہ ہر اس کام کے لئے کہا جاتا تھا جو مےرے محلے مےں ےا تو نےا ہوتا ےا انوکھا چاہے وہ قمیض شلوار کے بجائے پینٹ شرٹ پہنے کی ہو ےا ہیرا سٹائل کو تبدیل کرنے سے لے کر اسٹیج پر پرفارمنس دینے سے لیکر اپنی بہنوں کے ساتھ باہر گھومنے جانے © ،غر ض ہر اس کام کے متعلق جو باقی دنیا نہ کرتی ہو۔
خیر ایسے بے شمار کام کے لئے بھی، جن سے مجھ کو ڈرایا گےا کہ لوگ کیا کہیں گے لیکن ایسے بھی بیشمار کام تھے جو نہیںکر سکی ان لوگوں کے ڈر سے، اب افسوس اس لئے زیادہ ہوتا ہے کہ مجھے زندگی کے سارے سفر مےںوہ لوگ کہیں نہ ملے۔
ہمارا معاشرہ ےقینا تبدیلی سے ڈرتا ہے، اب کونسی تبدیلی؟ ےہ الگ بحث ہے مگر ڈرتا ہے، اورہمےں وہ لوگ ڈراتے ہیں جو خود ہم سے ڈرتے ہےں اور یہ چاہتے ہیںکہ ہم بھی انہی کی طرح سوچیں۔صدیا ں گزر گئی قدیم روایتی معاشرہ آج ماڈرن ہو گیا ہے مگر یہ روایت آج بھی سینہ بہ سےنہ لوگوں کے ذہن کو ”کےا کہےں گے لوگ“ سے آگے بڑھنے نہےں دیتی۔اےک رواج ہے جو زمانہ قدیم سے عمل مےں ہے۔اب سوشل مےڈیا کی ہی مثال لے لےں، یہاں ہر شخص آپ کو اپنے خیالات اور سوچ فروخت کرنے کے چکر میں ہے آپ اگر مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کریں تو لوگ آپ کو طالبان سے جھوڑ لیتے ہیں،بلوچستان کے مسائل کی بات کریں تولوگ آپ کو محب وطن سمجھنے سے کتراتے ہےں،ملالہ کی بات کریں تو لوگ آپ کو ایجنٹ کہنے لگتے ہیں نہ جانے کتنی اور مثالیںہےں۔تبدیلی لانے کی بات تو ہر کوئی کرتا ہے مگر اس تبدیلی کو عمل مےں لانے کی بات کوئی نہیں کرتا۔تنقید کرنے والے تو بہت ہےں مگر سراہنے والے بہت کم ۔آپ جتنا بھی اچھا کام کریں یہ ممکن ہی نہیں کہ اس معاشرے مےں ایسے لوگ آپ کو نہ ملیںجو آپ کے کام مےںنقص نہ نکالیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا اور بنگلہ دیش،یہ تین بڑے ترقیاتی ممالک جہاں آج بھی ےہ سوال ہماری نوجوان نسل،جو آنے والے وقت مےں ہمارے ملک کا سرمایہ ہےں، سرے عام ان کی خواہشات کا گلہ گھوٹ رہا ہے۔کتنے خواب ہیں جو ابھرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہےںاگر ہم اپنے ملک پاکستان کا موازنہ غیر ممالک سے کرےں تو وہاں کا ہر نوجوان خودمختار ہے جو وہ چاہتے ہیں وہ ہی کرتے ہیں،بغیر سوچے کہ مےرے والدین کیا کہیں گے؟ میرے پڑوسی کےا کہیں گے؟مےرے دوست احباب کےا کہیں گے؟جہاں ہم ہر شعبے مےں چاہے وہ صنعت و حرفت کا معالعہ ہو ےا علوم و فنون کا،ہر کام میں ہم ان کے شانہ بشانہ چلنے کے لےے تیار ہیںتو یہ سوچ کیوں ختم نہیں کرسکتے۔ جب آنے والی نوجوان نسل سے یہ سوال کیا گیا کہ یہ ڈر ہے ےا خوف یا کوئی رواج ہے یا روایت جو ہر انسان کچھ کرنے سے پہلے کچھ بننے سے پہلے اسی سوال کے بارے مےں سوچتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اگر ڈر ہے تو سوال کا جو اب کیا ہے اور اس سوچ کو ختم کسے کیا جا سکتا ہے؟ اس پہ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ چیز معاشرے میں اےک مرض کی طرح بن کے رہ گئی ہے جس کا علاج تو ممکن ہے مگر تھوڑا مشکل ہے اسکے لئے نوجوان یا آنے والی نسل یعنی بچوں کو نصاب مےں یہ چیز پڑھائی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی مےں اپنے لئے ،اپنے خاندان کے لئے اوراپنے ملک کے لئے بہتر سے بہترثابت ہوں۔جو آپ ہیں ہمیشہ وہ ہی رہےں بغیر لوگوں کی پرواہ کئے ہر وہ کام کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں جو آپ بننا چاہتے ہیں کیوں کہ زندگی بہت چھوٹی ہے اگر لوگوں کے بارے مےں سوچتے رہینگے تو منزل کہی پیچھے چھوٹ جائے گی اور تنقید کرنے والے آگے بڑھ جائیں گے پھر کسی کے خوابوں کودفن کرنے ، چھوڑ دیں سوچنا کہ لوگ کےا کہیں گے ؟ وہ کہتے ہیں نا :
      کچھ تو لوگ کہیں گے،لوگوں کاکام ہے کہنا، 

   چھوڑو بےکار کی باتےں ،کہیں بیت نہ جائے رینا، 


Last warning: if u did not send it with proper file name, it will be rejected. See composing mistakes, these are same which i have pointed out in ur earlier piece. U mixed up  ے with ی. It matters when it is converted in word for web site and some times during editing create problem 
 Referred back

 ثناءشےخ
رول نمبر:۵۵
مےڈےا اےنڈ کمےونےکےشن
اےم اے (پرےوےس)
 فےچر
   لوگ کیا کہیں گے ﴾  لوگ کےا کہےنگے﴿ 

کہنے کو تو ےہ تےن الفاظ کا مجموعہ ہے۔مگر دےکھا جائے تو ےہ تےن الفاظ اور اےک سوال جو روز کہےں نہ کہےں کسی نہ کسی شخص کی زندگی ان کی خواہشات ،اور آرمانوں کو کچل رہا ہے ۔اےک اےسا سوال جہاں انسان کی ہر سوچ مفلوج ہوجاتی ہے ا نسان سوچتا بہت کچھ ہے مگر کرتا وہ ہی ہے جو عجےب الخلقت اس سے کروانہ چاہتی ہے مسئلہ چھوٹا ہو ےا بٹرا،رائے ذاتی ہو ےا سماجی ،پر سوال اےک ہی ”کےا کہےنگے لوگ“ آخر کےا کہےنگے لوگ ہم کےوں سوچتے ہےںانسان خود سے زےادہ کےوں لوگوں کے خےالات پرمبنی ہے ےقےنا آپ نے بھی بچپن مےں جب کبھی کوئی نےا کام کرنے کا ارادہ کےا ہوگا تو گھر سے ےہ جملہ ضرور سننے کو ملا ہوگا © © © © © © ”کہ لوگ دےکھےں تو کےا کہےنگے؟ ثقافت اور تہذےب کے نام پر کتنے ہی لوگوں کی زندگےوں کا فےصلہ سنا دےا جاےا ہے، کتنے ہی قصبے،گاﺅں،گوٹھ ہےںجہاں نہ لڑکی باہر پڑھنے جا سکتی ہے نہ اپنی مرضی سے اسے شادی کرنے کا کوئی حق ہے ۔آج بھی برادری اور ذات پات کے نظام نے ہزاروں لڑکےوں سے ان کے خواب ،ان کی آزادی چھےن لی ہے اور وجہ کےا ؟ صرف اےک سوال لوگ کےا کہےنگے؟
مےرے قصے مےں ےہ ہر اس کام کے لےے کہا جاتا تھا جو مےرے محلے مےں ےا تو نےا ہوتا ےا انوکھا © © © چاہے وہ قمےض شلوار کے بجائے پےنٹ شرٹ پہنے کی ہو ےا ہےرا سٹائل کو تبدےل کرنے سے لے کر اسٹےج پر پرفارمنس دےنے سے لےکر اپنی بہنوں کے ساتھ باہر گھومنے جانے © ،؛غر ض ہر اس کام کے متعلق جو باقی دنےا نہ کرتی ہو۔
خےر اےسے بے شمار کام کے لےے بھی، جن سے مجھ کو ڈراےا گےا کہ لوگ کےا کہےنگے لےکن اےسے بھی بےشمار کام تھے جو نہےںکر سکی ان لوگوں کے ڈر سے، اب افسوس اس لےے زےادہ ہوتا ہے کہ مجھے زندگی کے سارے سفر مےںوہ لوگ کہےں نہ ملے۔
ہمارا معاشرہ ےقےنا تبدےلی سے ڈرتا ہے، اب کونسی تبدےلی؟ ےہ الگ بحث ہے مگر ڈرتا ہے، اورہمےں وہ لوگ ڈراتے ہےں جو خود ہم سے ڈرتے ہےں اور ےہ چاہتے ہےںکہ ہم بھی انہےں کی طرح سوچےں۔صدےاں گزر گئی قدےم رواےتی معاشرہ آج مڈرن ہو گےا ہے مگر ےہ رواےت آج بھی سےنہ بہ سےنہ لوگوں کے ذہن کو ”کےا کہےنگے لوگ“ سے آگے بڑنے نہےں دےتی۔اےک رواج ہے جو زمانہ قدےم سے عمل مےں ہے۔اب سوشل مےڈےا کی ہی مثال لے لےں، ےہاں ہر شخص آپ کو اپنے خےالات اور سوچ فروخت کرنے کے چکر مےں ہے آپ اگر مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کرےں تو لوگ آپ کو طالبان سے جھوڑ لےتے ہےں،بلوچستان کے مسائل کی بات کرےں تولوگ آپ کو محب وطن سمجھنے سے کتراتے ہےں،ملالہ کی بات کرےں تو لوگ آپ کو اےجنٹ کہنے لگتے ہےں نہ جانے کتنی اور مثالےں ہےں۔تبدےلی لانے کی بات تو ہر کوئی کرتا ہے مگر اس تبدےلی کو عمل مےں لانے کی بات کوئی نہےں کرتا۔تنقےد کرنے والے تو بہت ہےں مگر سراہنے والے بہت کم ۔آپ جتنا بھی اچھا کام کریں ےہ ممکن ہی نہےں کہ اس معاشرے مےں اےسے لوگ آپ کو نہ ملےں جو آپ کے کام مےںنقص نہ نکالےں۔
سوچنے کی بات ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ انڈےا اور بنگلہ دےش،ےہ تےن بڑے ترقےاتی ممالک جہاں آج بھی ےہ سوال ہماری نوجوان نسل،جو آنے والے وقت مےں ہمارے ملک کا سرماےہ ہےں، سرے عام ان کی خواہشات کا گلہ گھوٹ رہا ہے۔کتنے خواب ہےں جو ابھرنے سے پہلے ہی دم توڑ دےتے ہےںاگر ہم 
اپنے ملک پاکستان کا موازنہ غےر ممالک سے کرےں تو وہاں کا ہر نوجوان خودمختار ہے جو وہ چاہتے ہےں وہ ہی کرتے ہےں،بغےر سوچے کہ مےرے والدےن کےا کہےنگے؟ مےرے پڑوسی کےا کہےنگے؟مےرے دوست احباب کےا کہےنگے؟جہاں ہم ہر شعبے مےں چاہے وہ صنعت و حرفت کا معالعہ ہو ےا علوم و فنون کا،ہر کام مےں ہم ان کے شانہ بہ شانہ چلنے کے لےے تےار ہےںتو ےہ سوچ کےوں ختم نہےں کرسکتے۔ جب آنے والی نوجوان نسل سے ےہ سوال کےا گےا کہ ےہ ڈر ہے ےا خوف ےہ کوئی رواج ہے ےا رواےت جو ہر انسان کچھ کرنے سے پہلے کچھ بننے سے پہلے اےسی سوال کے بارے مےں سوچتا ہے کہ لوگ کےا کہےنگے؟ اگر ڈر ہے تو سوال کا جو اب کےا ہے اور اس سوچ کو ختم کسے کےا جا سکتا ہے؟ اس پہ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ےہ چےز معاشرے مےں اےک مرض کی طرح بن کے رہ گئی ہے جس کا علاج تو ممکن ہے مگر تھوڑا مشکل ہے اسکے لےے نوجوان ےا آنے والی نسل ےعنی بچوں کو نصاب مےں ےہ چےز پڑھائی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی مےں اپنے لےے ،اپنے خاندان کے لےے اوراپنے ملک کے لےے بہتر سے بہترثابت ہوں۔جو آپ ہےں ہمےشہ وہ ہی رہےں بغےر لوگوں کی پرواہ کےے ہر وہ کام کرے جو آپ کرنا چاہتے ہےں جو آپ بننا چاہتے ہےں کےوں کہ زندگی بہت چھوٹی ہے اگر لوگوں کے بارے مےں سوچتے رہےنگے تو منزل کہی پےچھے چھوٹ جائے گی اور تنقےد کرنے والے آگے بڑھ جائے گے پھر کسےی کے خوابوں کودفن کرنے ، چھوڑ دےں سوچنا کہ لوگ کےا کہےنگے ؟ وہ کہتے ہےں نہ :
      کچھ تو لوگ کہےنگے،لوگوں کاکام ہے کہنا، 
   چھوڑو بےکار کی باتےں ،کہی بےت نہ جائے رےنا، 

نظر وہم یا حقیقت

We have no word composing system. In urdu we need composed in inpage.  Next time, piece composed in word will not be accepted
درشھوار   مرزا  
Revised
2k16/MMC/19
MA Previous 
فیچر :   نظر وہم  یا حقیقت
         نظر بد  وہم یا حقیقت  ایک ایسا موضوع ہے،جس کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین  رکھتے ہیں۔
"نظر لگ گئی"، "لگادی نہ نظر"، نظر، نظر، نظر، یہ وہ جملے ہیں جو ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں اکثر سُننے کو ملتے ہیں۔
نظر بد کے سب سے آسان شکار بچے ہوتے ہیں جن کی معصومانہ حرکتیں ، شرارتیں دل  کو ایسے لُبھاتی ہیں کہ انہیں بے اختیار ماں باپ اور چاہنے والوں کی نظر بھی لگ جاتی ہے۔

کچھ ایسے ہی میرا ایک کزن نظر بد کا شکار ہو گیا تھا ۔وہ نہایت نیک  اور ہوشیار  اور پوزیشن ہولڈر ہے۔ وہ جب اسکول جانے کے لیے اُٹھتا تو اس کی طبیعت اچانک خراب ہو جاتی تھی یا اسکول سے فون آجاتا تھا کہ  آپ  کہ بچے  کی طبیعت خراب ہو گئی ہے آپ اُسے آکر لے جائیں اور اسکول کا ٹائم گزرنے کے بعد اس کی طبیعت ٹھیک ہو جاتی تھی اسے جسم کے بعض حصوں میں شدید تکلیف شروع ہو جاتی تھی والدین نے کافی ڈاکٹرز کو دکھایا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا ایسا لگاتار چھ مہینے تک چلتا رہا جس کی وجہ سے اس کی پڑھائی پر کافی بُرا اثر  پڑا۔ آخر کار کچھ عامل حضرات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سخت نظرِ بد کا اثر بتایا پھر روحانی علاج شروع کیا گیا جس سے کافی فائدہ ہوا اب وہ بلکل ٹھیک ہے۔

نظر ایک زہر ہےکہ حق تعالیٰ نے بعض لوگوں کی آنکھوں میں اس کو رکھا ہے جیسا کہ بچھوں کے  ڈنگ  اور سانپ کی زبان میں زہر رکھا گیا ہے اسی طرح آدمی کی آنکھ میں بھی نظر مقرر کی گئی ہے اور یہ نہ جانے کہ نظر غیر کی لگا کرتی ہےاپنی  نہیں لگتی بعض وقت اپنی ہی نظر لگا کرتی ہے اور یہ جانے کہ فقط انسانوں ہی پر لگتی ہے دوسری چیز پر نہیں لگتی  ہے    ،  بلکہ نظر کا شکار جانور، کھیتی، باغ، دولت اور اسباب، ہر وہ چیز جو خوبصورت اور فائدہ  ہو نظر کا شکار ہو جاتی ہے۔
نظر صرف انسان کی ہی نہیں لگتی بلکہ آسمانی اور نادیدہ مخلوق کی بھی لگتی ہے۔
نظر بد جسے زخمِ چشم یا نظر لگنا بھی کہا جاتا ہے ،اس کا تصور قدیم زمانے سے مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔   عرب میں ایسے لوگ موجود تھے جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔

 اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکے نظر لگاتے اور جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے، ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ نظر بد کا مسئلہ عقلی لحاظ سے ناممکن نہیں ہے ،کیونکہ آج کے دور میں یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ،اگر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقناطیسی قوت پر مہارت حاصل کر لی جائے تو آدمی اس کے ذریعے سے دوسروں کے ذہن اور خیالات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ ایسے افراد کو جانتے ہوں گے جو آنکھوں کی اس توانائی کے ذریعے انسانوں، جانوروں یا کسی بھی شے پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا نظر بد کا انکار ممکن نہیں ہے اور نہ ہی نظر بد کا وجود عقل و علم کے منافی ہے۔
 باقی رہی یہ بات کہ نظر کا لگنا اچھا لگنے یا خوب صورتی کی وجہ سے ہوتا ہے یہ ضروری نہیں ہے، بلکہ نظر لگانے والے کی نظر میں اگر حسد یا دشمنی ہو تو تب بھی نظر لگتی ہے ۔

 بعض لوگ جن کی نظر لگتی ہے ان کا بیان ہے کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں سے حرارت نکلتی ہے،نظر اس وقت لگتی ہے جب کسی کو اچھی نظر سے دیکھا جائے اور اس میں حسد کا شائبہ ہو اور نظر لگانے والا گندی فطرت والا ہوتا ہے، جیسے زہریلے سانپ ہوتے ہیں، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر معشوق کو عاشق کی نظر لگ جاتی ، لہٰذا یہ نظر کا لگنا حسد ، بغض ، کینہ اور دشمنی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

مان لیا  جائے کے  نظر کا لگنا   حق  ہے تو  اسکا  علاج  کیا ہے او ر  اس سے کیسے بچا جائے۔  اصل میں نظر کو دور کرنے کے بہت سے طریقے مختلف علاقوں میں رائج ہیں ۔

نظر لگنے او راس سے بچنے کیلئے  عرب میں جو طریقہ رائج تھا اور  ہے کہ جس شخص کی نظر لگتی ہے اس کے ہاتھ، پاؤں، ٹخنے، کہنیاں وغیرہ دھلوا کر وہ پانی اس شخص پر ڈالتے  ہیں جس کو نظر لگی ہوتی  ہے  اور اس کو وہ لوگ شفاء کا ذریعہ سمجھتے  ہیں ۔

مگر ہمارے پاس  نظر کے علاج  کے لیے   عجیب   وغریب طریقے  اپنائے جاتے  ہیں ۔ جیسے کہ بعض لوگ لو بان اور نیرہ ( خاص پودا) کے دھویں سے دھونی دیتے ہیں ، بعض لوگ پھٹکری سے نظر کا علاج کرتے ہیں۔
 کچھ لوگ لال والی سات عدد مرچیں لیتے ہیں اور اس پر چار قل پڑھتے ہیں اور جس کو نظر لگی ہوتی ہے اس کی جسم یا سر یا چہرے کے ساتھ ملتے ہیں اور پھر اسے آگ پر جلا دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں  نظر  کا سب سے زیادہ    کامیاب  مانے جانے والا   علاج    کالا داگھا  اور   چپل   ہیں  ،   اگر  کسی  انسان  کو   نظر  لگ جائے  تو      کسی فقیر  سے   کالے  دھاگے  پر  دم  کرواکے   اسکو   گلے  میں  پہنائی   جاتی ہے  یا  ہاتھ  پر باندھ   دیا جاتا  ہے  ۔اور  اگر  کسی  جانور      کو نظر  لگجائے   تو   کبھی   کالا  داگھا   کبھی    چپل    اسکے   گلے    لٹکادیا      جاتا      ہے۔ یہی  وجہ  ہے کے  ہر  ۳     سے ۲  افراد   میں   کالا دھاگا  پایا     جاتا ہے  اور شہر میں   ہر      ۱۰  سے     ۸ گاڑیوں     کے   اور دیہاتوں میں   بھینس  بکریوں  کے  ساتھ    چپل  لٹکتا    ملتا    ہے۔
نظر بد کے اثرات پر یقین رکھنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم بلاوجہ شک و شبہات میں مبتلا ہو کر دوسروں کو ہر پریشانی کا مورد الزام قرار دے کر باہمی تعلقات کو خراب کریں۔ اور باہمی طور پر الزام در الزام یا لعن طعن کا سبب بنیں اور نہ ہی نظر بد کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں بے ہودہ کاموں ،طریقوں کی پناہ لینی چاہیے اور نہ ہی اس سلسلے میں پیروں اور جعل ساز تعویذ فروشوں کے جال میں پھنس کر اپنا مال و اسباب اور ذہنی سکون برباد کرنا چاہیے۔

علماء کرام نے بتایا کہ نظر لگنا برحق ہے نظر بد ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ۔نظر پتھر کو بھی توڑ دیتی نظر صرف اپنوں کی نہیں جنات کی بھی لگتی ہے ہمارے معاشرے میں نظر لگنا بہت آم ہےنظر اچھی بھی ہوتی ہے اور بُری بھی اچھی نظر اُس صورت میں ہم کہیں گے جب اس نظر کے بعد جس ہر نظر پڑی ہے اس کی تعریف و توصیف بھی ہو اور دل میں اس کی عزت و احترام بھی ہو۔ بُری نظر ہم اس کو کہیں گے جب ہم کسی کو ہنستا کھیلتا دیکھتے ہیں توایک جلن کی آگ سی سُلگتی ہے۔ نظر کے ساتھ حسد کا بھی تعلق ہے وہ نظر جس کو دیکھا گیا ہے اُس شخصیت پر بڑے بُرے اثرات ڈالتی ہے کبھی کبھی تو اتنا بُرا  اثر  ڈالتی ہے  کہ نظر اُس آدمی کی صحت خراب کر دیتی ہے اس کے معال و اسباب کو تباہ کر دیتی ہے۔

لڑکیاں تو ذرا ذرا سی بات پر کہتی ہیں کہ ہمیں نظر لگ گئی ان کی زبان پر نظر کا لفظ اس طرح رٹ سا گیا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش ہو یا بیماری، یا ان کے کپڑے جل جائیں یا ناخن ٹوٹ جائیں وغیرہ تو وہ ان کو بھی نظر بد کا شکار سمجھتی ہیں حالانکہ کبھی کبھار یہ  انکی بے احتیاتی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے یہ ان کے دماغ میں وہم کی طرح بیٹھ گیا ہے۔


نظر بد سے بچاؤ کے لیے قرآن حکیم میں اور اسلامی کتابوں میں بہت سی دُعائیں اور کلمات ملتے ہیں جن کا استعمال اگر ہم اپنی  روز مرہ زندگی میں کریں تو نظر بد سے بچا جا سکتا ہے۔نظر حقیقت ہے خدارا نظر کو نظر کا مسئلہ نہ بناؤ۔

Referred back
Feature is always reporting based. This is essay or at the most article. U should put some real story and talk with the related people. Also seek expert opinion
In urdu we accept only inpage format, because in word format we can not edit it.


درشھوار   مرزا  
2k16/MMC/19
MA Previous 
فیچر :   نظر  وہم   یا  حقیقت
              نظر بد  وہم یا حقیقت  ایک ایسا موضوع ہے،جس کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین  رکھتے ہیں۔
"نظر لگ گئی" ،"لگادی نہ نظر"، نظر، نظر، نظر، یہ وہ جملے ہیں جو ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں اکثر سُننے کو ملتے ہیں۔
نظر بد کے سب سے آسان شکار بچے ہوتے ہیں جن کی معصومانہ حرکتیں ، شرارتیں دل  کو ایسے لُبھاتی ہیں کہ انہیں بے اختیار ماں باپ اور چاہنے والوں کی نظر بھی لگ جاتی ہے۔
نظر ایک زہر ہےکہ حق تعالیٰ نے بعض لوگوں کی آنکھوں میں اس کو رکھا ہے جیسا کہ بچھوں کے  ڈنگ  اور سانپ کی زبان میں زہر رکھا گیا ہے اسی طرح آدمی کی آنکھ میں بھی نظر مقرر کی گئی ہے اور یہ نہ جانے کہ نظر غیر کی لگا کرتی ہےاپنی  نہیں لگتی بعض وقت اپنی ہی نظر لگا کرتی ہے اور یہ جانے کہ فقط انسانوں ہی پر لگتی ہے دوسری چیز پر نہیں لگتی  ہے،  بلکہ نظر کا شکار جانور، کھیتی، باغ، دولت اور اسباب، ہر وہ چیز جو خوبصورت اور فائدہ  ہو نظر کا شکار ہو جاتی ہے۔
نظر صرف انسان کی ہی نہیں لگتی بلکہ آسمانی اور نادیدہ مخلوق کی بھی لگتی ہے۔
نظر بد جسے زخمِ چشم یا نظر لگنا بھی کہا جاتا ہے ،اس کا تصور قدیم زمانے سے مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔   عرب میں ایسے لوگ موجود تھے جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔
 اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکے نظر لگاتے اور جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے، ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ نظر بد کا مسئلہ عقلی لحاظ سے ناممکن نہیں ہے ،کیونکہ آج کے دور میں یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ،اگر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقناطیسی قوت پر مہارت حاصل کر لی جائے تو آدمی اس کے ذریعے سے دوسروں کے ذہن اور خیالات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
عبداللہ ایک عالم ہیں کہتے ہیں کہ میں سفر میں تھا اور میرا اُونٹ بہت تیز اور چالاک تھا اتفاقاََ ایک جگہ ہر جو اُترا کسی نے مجھ سے کہا کہ اس جگہ ایک شخص نظر لگانے میں مشہور ہے اور تمھارا شُتر بہت خوب ہے ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں نظر لگادے اور تمہارا اُونٹ  ضائع ہو جائے میں نے کہا کہ میرے اُونٹ پر اس کی نظر نہیں لگے گی جب یہ خبر اس کو پہنچی تو اُس نے اُسی وقت میرے اُونٹ کو نگاہ بھر دیکھا اس کے دیکھتے ہی اُونٹ گِر پڑا اور مضطر ہونے لگا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ فلانہ شخص تمہارے اُونٹ کو نظر لگا گیا ہےمیں نے اس کو بُلوا کر اپنے رُو برو بِٹھایا  اور ایک دُعا پڑھی اور اُسی وقت آنکھ اُس شخص کی نکل پڑی اور اُومٹ میرا اچھا ہو گیا۔
 ہم میں سے اکثر لوگ ایسے افراد کو جانتے ہوں گے جو آنکھوں کی اس توانائی کے ذریعے انسانوں، جانوروں یا کسی بھی شے پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا نظر بد کا انکار ممکن نہیں ہے اور نہ ہی نظر بد کا وجود عقل و علم کے منافی ہے۔
 باقی رہی یہ بات کہ نظر کا لگنا اچھا لگنے یا خوب صورتی کی وجہ سے ہوتا ہے یہ ضروری نہیں ہے، بلکہ نظر لگانے والے کی نظر میں اگر حسد یا دشمنی ہو تو تب بھی نظر لگتی ہے ۔
 بعض لوگ جن کی نظر لگتی ہے ان کا بیان ہے کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں سے حرارت نکلتی ہے،نظر اس وقت لگتی ہے جب کسی کو اچھی نظر سے دیکھا جائے اور اس میں حسد کا شائبہ ہو اور نظر لگانے والا گندی فطرت والا ہوتا ہے، جیسے زہریلے سانپ ہوتے ہیں، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر معشوق کو عاشق کی نظر لگ جاتی ، لہٰذا یہ نظر کا لگنا حسد ، بغض ، کینہ اور دشمنی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔
مان لیا  جائے کے  نظر کا لگنا   حق  ہے تو  اسکا  علاج  کیا ہے او ر  اس سے کیسے بچا جائے۔  اصل میں نظر کو دور کرنے کے بہت سے طریقے مختلف علاقوں میں رائج ہیں ۔
نظر لگنے او راس سے بچنے کیلئے  عرب میں جو طریقہ رائج تھا اور  ہے کہ جس شخص کی نظر لگتی ہے اس کے ہاتھ، پاؤں، ٹخنے، کہنیاں وغیرہ دھلوا کر وہ پانی اس شخص پر ڈالتے  ہیں جس کو نظر لگی ہوتی  ہے  اور اس کو وہ لوگ شفاء کا ذریعہ سمجھتے  ہیں ۔  
مگر ہمارے پاس  نظر کے علاج  کے لیے   عجیب   وغریب طریقے  اپنائے جاتے  ہیں ۔ جیسے کہ بعض لوگ لو بان اور نیرہ ( خاص پودا) کے دھویں سے دھونی دیتے ہیں ، بعض لوگ پھٹکری سے نظر کا علاج کرتے ہیں۔
 کچھ لوگ لال والی سات عدد مرچیں لیتے ہیں اور اس پر چار قل پڑھتے ہیں اور جس کو نظر لگی ہوتی ہے اس کی جسم یا سر یا چہرے کے ساتھ ملتے ہیں اور پھر اسے آگ پر جلا دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں  نظر  کا سب سے زیادہ  کامیاب  مانے جانے والا علاج    کالا داگھا  اور چپل  ہیں،  اگر  کسی  انسان  کو  نظر  لگ جائے  تو کسی فقیر  سے  کالے  دھاگے  پر  دم  کرواکےاسکو گلے میں  پہنائی  جاتی ہے  یا  ہاتھ  پر باندھ   دیا جاتا  ہے  ۔اور اگر  کسی  جانورکو نظر  لگ جائے تو کبھی  کالا  داگھا  کبھی  چپل اسکے  گلے لٹکادیا جاتا  ہے۔ یہی  وجہ  ہے کے  ہر  ۳  سے ۲  افراد   میں   کالا دھاگا  پایا جاتا ہے  اور شہر میں   ہر ۱۰  سے  ۸ گاڑیوں  کے اور دیہاتوں میں  بھینس  بکریوں  کے  ساتھ  چپل  لٹکتا  ملتا  ہے۔
نظر بد کے اثرات پر یقین رکھنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم بلاوجہ شک و شبہات میں مبتلا ہو کر دوسروں کو ہر پریشانی کا مورد الزام قرار دے کر باہمی تعلقات کو خراب کریں۔ اور باہمی طور پر الزام در الزام یا لعن طعن کا سبب بنیں اور نہ ہی نظر بد کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں بے ہودہ کاموں ،طریقوں کی پناہ لینی چاہیے اور نہ ہی اس سلسلے میں پیروں اور جعل ساز تعویذ فروشوں کے جال میں پھنس کر اپنا مال و اسباب اور ذہنی سکون برباد کرنا چاہیے۔

لڑکیاں تو ذرا ذرا سی بات پر کہتی ہیں کہ ہمیں نظر لگ گئی ان کی زبان پر نظر کا لفظ اس طرح رٹ سا گیا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش ہو یا بیماری، یا ان کے کپڑے جل جائیں یا ناخن ٹوٹ جائیں وغیرہ تو وہ ان کو بھی نظر بد کا شکار سمجھتی ہیں حالانکہ کبھی کبھار یہ  انکی بے احتیاتی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے یہ ان کے دماغ میں وہم کی طرح بیٹھ گیا ہے۔
نظر بد سے بچاؤ کے لیے قرآن حکیم میں اور اسلامی کتابوں میں بہت سی دُعائیں اور کلمات ملتے ہیں جن کا استعمال اگر ہم اپنی  روز مرہ زندگی میں کریں تو نظر بد سے بچا جا سکتا ہے۔نظر حقیقت ہے خدارا نظر کو نظر کا مسئلہ نہ بناؤ۔