Showing posts with label Latifabad. Show all posts
Showing posts with label Latifabad. Show all posts

Thursday, 19 May 2016

لطیف آباد کی لڑکیوں کا یونیورسٹی کی طرف بڑھتا ہوا رحجان Latifabad

Ye article tw nhe lagta. Ap dekhen k article k kia definition hoti hae
ARTICLE
"لطیف آباد کی لڑکیوں کا سندھ یونیورسٹی کی طرف بڑھتا ہوا رحجان"
Fariya Masroor
M.A Previous
Roll # 23 
آرٹیکل  : فاریہ مسرور ایم اے پریوئس فرسٹ سمسٹمر
سندھ یونیورسٹی جامشورو جو کسی تعریف کی محتاج درس گاہ نہیں اور سندھ کی ایک مشہور جامع ہے جس میں پورے سندھ کے طلباء، طلبات علم حاصل کر نے اپنے گھر وں سے گاﺅں سے قصبوں اور شہروں سے آتے ہیں سندھ کی یہ جامع درس گاہ ، درس گاہوں میں اعلیٰ درس گاہ یعنی درس گاہوں کی ماں کا حاصہ حیثیت رکھتی ہے ہر شہر سے آنے والے طلبات کو یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے ہی شہر کے کسی اعلیٰ درس گاہ میں پڑھنے آئے ہوں یہاں کے قابل تعریف لائق اساتذہ اور یہاں کی انتظامیہ یقینً تعریف اور خراج امتیاز کے لائق ہے کہ جنہوں نے دن رات محنت کر کے ایک ایسا ادارہ قائم کردیا ہے جسکی مثال کم و بیش ایشیاءمیں تو ملنے سے قاصر ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ یونیورسٹی اپنے محدود و سائل کو بروحے کار لاتے ہوئے اس حیثیت کی حامل درس گاہ ہوگئی ہے جس کا شمار صفحے اول کی درس گاہوں میں ہوتا ہے یوں تو ہر گاﺅں ہر شہر کی طلباءاور طلبات یہاں علم حاصل کر نے آتے ہیں مگر ان میں خاص طلبات کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ سراسر ذیادتی ہوگی طلبات میں سب سے بڑی تعداد لطیف آباد کے 12 یونٹوں میں سے آنی والی طلبات کی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں اگر ان تمام وجوہات کو ہم سلسلہ وار تحریر کریں تو جامعہ سندھ یونیورسٹی کی افادیت اور اسکی انتظامیہ کے بہت سے پہلو سامنے آئیں گے اسکی ایک اہم وجہ یہاں کا علمی ماحول ہے جسکی وجہ سے طلبات جامعہ سندھ کا رخ کر رہی ہیں علم و نیر کے ساتھ ساتھ یہاں کے علمی ماحول میں ایک دوسرے سے علمی مدد ایک دوسرے کا احترام اور عزت قابل ذکر ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں اساتذہ اور طالبات کی بہت عزت کر تے ہیں اسی وجہ سے کہ لطیف آباد میں رہنے والی لڑکیاں کسی قسم کا ڈریا شک دل میں لئے بغیر یونیورسٹی کارخ کرتی ہیں ۔ سندھ کی قدیم تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ سندھ میں عورت کو عزت کے اعتبار سے ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ اسکی تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ لطیف آباد میں رہنے والی لڑکیاں اپنی تعلیم کے بعد اس ہنر کو استعمال بھی کرتی ہیں جاب کی صورت میں ان تمام ملی جلی وجہوں سے ہی آج یونیورسٹی میں بڑی تعداد لطیف آباد سے آنے والی لڑکیوں کی ہے ۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi 
 #GirlsEducation, #Latifabad, #Hyderabad, #SohailSangi,#FareehaMasroor,

Wednesday, 2 March 2016

بے لگام مشینی گھوڑے کا لطیف آباد کی سڑکوں پر راج

No proper file name. We do not need PDF or Rar format. just need inpage. category of  write up should be mentioned. and writers  name in language the piece is sent.
 If sent next time in this manner, ir will be rejected.
 Is this topic approved? 
Referred back

 اس کا رائٹر کون ہے؟ کوئی پیرا گراف نہیں۔ آرٹیکل میں اعدا وشمار ، تحقیقی رپورٹس ، ماہرین کی رائے وغیہر شامل ہوتی ہے
یہ چار سو الفاظ ہیں۔ کل چھ سو سے زائد چاہئیں۔ کیا یہ ٹاپک منظور شدہ ہے۔
بے لگام مشینی گھوڑے کا لطیف آباد کی سڑکوں پر راج


 ویسے تو مو ٹر سائیکل سوار کے لیے ایک سستی سواری ہے اور کم خرچ میں اس کے زریعے سفر کیا جا سکتا ہے لیکن سستی ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں احتیاط اور کچھ اصول بھی ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میںاور اسکے چلانے میں جدت بھی آئی ہے اسکے چلانے کے نئے طریقوں میں موٹر سائیکل کرتب بھی شامل ہیں جو آجکل کے نوجوانوں میں سر چڑھ کر بول رہا ہے اس مرض میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ کم عمر بچے بھی مبتلا ہیںجو اس بے لگام مشینی گھوڑے کو تیزی سے دوڑائے پھرتے ہیں اور حادثات کو کھلی دعوت دیتے ہیں اور ایسے اسکا شکار بن جاتے ہیں جیسے جنگل کا بادشاہ(شیر) اپنے شکار کو شکار بنالیتا ہے اسی طریقے سے یہ مشینی گھوڑا جب حادثے کا شکار بنتا ہے تو اپنے سوار کی ہڈیاں توڑ دیتا ہے اور بعض اوقات اپنے سوار کی زندگی کو موت سے مات دلوا دیتا ہے ایسی ہی صورتحال آج کل شہرحیدر آباد، لطیف آباد میں دکھائی دیتی ہے اور مقامی پولیس کے مطابق لطیف آباد میں روز بروز حادثات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اسکے علاوہ مقامی ہسپتالوں کی رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں درجنوں کیس ایسے آرہے ہیں جو ان حادثات سے بری طرح متاثر ہو کر معضوری کا شکار ہو گئے ،پچھلے چند سالوں سے ہمارے نو جوان اور کم عمر بچے اس مرض مبتلا ہیں تاہم اس بیماری کے علاج کو کھوجنے میں ہماری فرض شناس حکومت ناکام ہے تو دوسری جانب ےہ بھی حقیقت ہے کہ علاج سے بہتراحتیاط ہے جبکہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ موٹر سائیکل رایڈنگ نا صرف ایک فن ہے بلکہ اسکے صحیع استعمال میں اگر ہماری فرض شناس حکومت دل چسپی کا مظاہرہ کرے اور انکو کرتب کے تربیتی ٹھکانے فراہم کرے جیسے کے دیگر ممالک میں موٹر سائیکل ریس جیسے ایونٹس کا انعقاد کیا جاتا ہے تو اس بے لگام مشینی گھوڑے کو اور وقت کو مات دینے کی سوچ رکھنے والے لوگوں کوجو اپنے آپ کو اور معصوم شہریوں کو موت کے چنگل میں دھکیل رہے ہیں ان پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ان کے فن کو مثبت سمت میں استعمال کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا جا سکتا ہے۔

Nabeel/////