Showing posts with label مہناز صابر. Show all posts
Showing posts with label مہناز صابر. Show all posts

Monday, 6 June 2016

پروفائل عاصمہ ذوالفقار Aasma Zulfiqar Profile

پروفائل عاصمہ ذوالفقار

 تحقیق و تحریر : مہناز صابر
Profile of Aasma Zulfiqar by Mehnaz Sabir
MMC/2K16/36 (Previous)

کسی ہجوم پر آپ کی نظر کسی ایک شخصیت پر ٹہر جائے ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن ایسا ناممکن بھی نہیں۔ میرے ساتھ ایسا تب ہوا جب میری نظر ایک اوسط قد کی لڑکی پر جا کر رک گئی۔ وہ مجھے کچھ جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔ لال رنگ کے انارکلی سوٹ میں اپنے دوٹے کو سنبھالتے ہوئے وہ میری ہی جانب چلی آرہی تھی۔ میری اب خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میں اب انہیں پہچان چکی تھی۔ وہ عاصمہ ذوالفقار علی ہی تھی۔ سر سہیل سانگی کی چہیتی اسٹوڈنٹس میں سے ایک۔ 
اکثر سر سہیل سے ان کی ذہانت کے قصے سنتی رہتی تھی۔ اور یہ بھی جانتی تھی کہ کچھ عرصے تک وہ حیدرآباد میں ایکسپریس نیوز چینل پر بطور رپورٹر اور سب ایڈیٹر خوب نبھا چکی تھی۔ 

 میں نے اپنے آپ میں کچھ ہمت پیدا کی۔ اور ان سے جا کر ملاقات کی۔ پہلے مجھے یوں دیکھ کر کچھ حیران اور تھوڑی سی پریشان ہوئی،کہ آکر میں ان کو کیسے جانتی ہوں؟ پھر جب میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی آپ ہی کی طرح سر سہیل کی اسٹوڈنٹ ہوں، تو ان کے چہرے پر خوشگوار تاثرات نمودار ہو گئے۔ اور پھر ہم لوگ کافی دیر تک یونیورسٹی، جاب، اور کچھ سر سہیل کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ اس دوران مجھے ان کے بارے میں کافی کچھ جاننے کا موقعہ ملا۔ 

 عاصمہ ذوالفقار علی آٹھ اگست 1985 میں پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کے خاندان کا تعلق انڈیا کے شہر اجمیر شریف سے تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ سر سہیل انہیں پیار سے اجمیری کہہ کر بلاتے تھے۔

 عاصمہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی ہیں۔ ان سے بڑی ان کی تین بہنیں ان پر جان چھڑکتی ہیں۔ جبکہ امی ابو کا ان کے بنا دل ہی نہیں لگتا۔

 انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شاہ لطیف اسکول سے شروع کی اور وہیں سے انٹر کیا۔
 اور پھر سندھ یونیورسٹی میں ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔ 

یونیورسٹی کے دور میں وہ نہ صرف اپنے گروپ میں ذہین سمجھی جاتی تھیں بلکہ پورے کلاس میں ان سے زیادہ ذہین کوئی اور اسٹوڈنٹ نہیں تھا۔ اس لئے وہ گھر کے علاوہ اپنے دوستوں اور تیچرز کی بھی فیوریٹ اسٹوڈنٹ تھیں۔ 

ان کی زندگی کا یادگار دن وہ تھا جب انہوں نے ماس کہمیونیکیشن میں فرسٹ پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل جیتا ۔ 


-------  -----------                     ---------------           --------  ----------

Too many composing mistakes. particularly of ے and  ی
This is one side view, how u observed her and how people know her, comments from her friends  colleagues  are must. 
 Intro is too traditional
photo is also required for interview, profile and feature

پروفائل عاصمہ ذوالفقار 

 تحقیق و تحریر : مہناز صابر

MMC/2K16/36 (Previous)

ہمارے ملک پاکستان مےں بہت با ہمت اور پڑھے لکھے لوگ موجود ہےں لےکن انکو آگے بڑھنے نہےں دےا جاتا کہ وہ کسی اچھی جوب پر فائز ہوکر ملک و قوم کی خدمت کر سکےں عاصمہ ذولفقار علی بھی اےک بہت قابل اور باہمت شخصےت کی مالک ہےں۔
عاصمہ ذوالفقار علی اجمےری سے مےری ملاقات اےک شادی مےں ہوئی مےں نے انھےں دےکھتے ہی پہچان لےا کہ ےہ تو اےکسپرےس نےوز کی نمائندہ ہےں مےں انسے جاکر ملی تو گفتگو کے دوران مجھے ےہ اندازہ ہوا کہ عاصمہ تو بہت اچھی شخصےت کی مالک ہےںاور بہت باہمت لڑکی ہےں مےں نے ان سے انکا اےڈرےس لےا اور پھر ان سے تفصےلی ملاقات کی ۔
عاصمہ ذالفقار علی اجمےری 8اگست 1985مےں حےدرآباد مےں پےدا ہوئےں انکے خاندان کا تعلق انڈےا اجمےر شرےف سے ہے قےام پاکستان کے وقت انکا خاندان انڈےا سے ہجرت کر کے پاکستان آےا ۔ ان کے والد جاب کے سلسلے مےں 30سال سعودی عرب مےں رہے عاصمہ کا کوئی بھائی نہےں ہے وہ صرف چار بہنےں ہےں اور عاصمہ سب سے چھوٹی ہےں انھوں سے ابتدائی تعلےم لطےف نےازی اسکول سے حاصل کی شاہ لطےف کالج سے انٹر کےا اور پھر سندھ ےونےورسٹی سے ماس کمےو نےکےشن ڈےپارٹمنٹ سے ماسٹرس کےا جب سے اےڈمےشن ہوا عاصمہ پوزےشن ہولڈر رہےں ۔ اسکول مےں بھی اور ےونےورسٹی مےں بھی ۔ جب انکا اےڈمےشن ماس کمےو نےکےشن ڈےپارٹمنٹ ہوا اسکے بارے مےں انہےں کچھ بھی پتا نہےںتھا انکو الف ب بھی نہےں آئی تھی نہ ہی خبروں مےں دلچسپی تھی انھےں اس مضمون مےں کوئی دلچسپی نہےں تھی لےکن اسکے باوجود پہلے سال ہی کلاس مےں پوزےشن آئی اور باقی کے تےن سال پورے ڈےپارٹمنٹ مےں پوزےشن لی اور مےڈل بھی حاصل کےا ۔
پوزےشن لےنے کی وجہ ےہ تھی کہ وہ صبح فجر مےں اٹھتی تھےں اور مسلسل پڑھتی تھےں اور رات 12بجے تک پڑھتی تھےں سارے مضامےن مےں 80مےں مارکس آئے تھے ۔
انھےں سہےلےاں بھی بہت اچھی ملےں ےونےورسٹی مےں انکی تےن سہےلےاں اور تےنوں بہت اچھی ہےں ۔
عاصمہ بہت زےادہ مددگار طبےعت کی مالک ہےں دوسروں کا درد اپنا درد سمجھتی ہےں ہر کسی کی مدد کرنے کےلئے تےار رہتی ہےںبہت مہمان نواز ہےں خاندان سے زےادہ دوستوں سے ملنا پسند ہے دوستوں کو زےادہ ترجےح دےتی ہےں۔ کھانا بھی بہت اچھا بناتی ہےں اور کھانے مےں برےانی اور کباب شوق سے کھاتی ہےں ۔
شاعری، مصوری اور کتابےں پرھنے کا شوق ہے اور کرکٹ دےکھنے کی حد تک پسند ہے انکے والد تو 30سال سے بےرون ملک تھے لےکن ہےاں پر انکے ٹےچر سہےل سانگی نے والد کی طرح بہت ساتھ دےا ہر جگہ مدد کی جاب کے سلسلے مےں بھی گائےڈکےا جب بھی کہےں نئی جاب کی آفر ہوتی ہے تو وہ اپنے ٹےچر سہےل سنگی سے مشورہ کرتی ہےں اس فےلڈ مےں آگے آنے مےں انکے ٹےچر سہےل سانگی انکی بہن اور دوستوںکا بہت ہاتھ ہے ۔
اردو، انگلش اور سندھی تےنوں زبانوں پر عبور حاصل ہے اور تےنوں زبانوں مےں انھوں نے آرٹےکل لکھے ہےں مگر مخلتف مےگزےنوں، اخباروں اور رسالوں مےں ےونےورسٹی مےں شعور مےگزےن اور روشنی اخبار مےں انگرےزی بھی اےڈےٹر رہی ہےں۔
اے -آر-وائی نےوز چےنل اور اے -آر-وائی ڈےجےٹل پارٹنر شپ کی انفارمےشن ڈےپارٹمنٹ شہباز بلڈنگ مےںایک سال نےشنل پارٹنر شپ اردو اور انگلش دونوں زبانوں مےں نےوز بنائےں تھےں۔
گورنمنٹ جاب کےلئے بےشمار ٹےسٹ دےئے اور سارے ٹےسٹ پاس کئے لےکن انڑوےو پاس نہےں کر سکےں کےونکہ انٹروےو مےں سفارشی لوگ کامےاب ہوتے ہےں انھوں نے بہت زےادہ جدوجہد کی ہے کراچی مےں بہت زےادہ دکھے کھائے ہےں انڑن شپ اور جا ب ڈھونڈنے کےلئے ۔2013انفارمےشن ڈےپارٹمنٹ نے انٹروےو کی کال کی تھی اس مےں سے لاتعداد لوگوں مےں سے ٹاپ 5نے عاصمہ کا نام آےا آفر لےٹر بھی آگےا تھا مےڈےکل بھی بنوا لےا تھا لےکن پھر سفارشی بندہ آگےا اور جاب اسکو مل گئی ۔
ڈےفےنس منسٹری کی جاب آئی تھی ٹےسٹ دےنے والوں کی تعداد 250تھی ان مےں سے صرف 6پاس ہوئے ان مےں بھی عاصمہ کا نام تھا لےکن یہاں پر بھی انٹروےو کے دوران انھےں بہت ساری باتےں سنے کو ملیں کہ سندھ ےونےورسٹی سے پوزےشن لے ہے تو کوئی تےر نہےں مارا اور کہا کہ اپنی ڈگری کو فرےم کروا کر گھر کی دےوار پرلگالےں ےہ سب سن کر انھےں بہت دکھ ہوا کہ پڑھے لکھے لوگ کےسی باتےں کر رہے ہےں ےعنی کراچی والوں کی نظر مےں سندھ ےونےورسٹی کی کوئی اہمےت ہی نہےں ہے لےکن عاصمہ نے ہمت نہےں ہاری اور فی الحال عاصمہ اےکسپرےس نےوز مےں سب اےڈےٹر کی جاب کر رہی ہےں الےکڑونک اور پرنٹ مےڈےا دونوں مےں کام کرتی ہےں ٹی وی مےں رپورٹنگ بھی کی ہے پیکیجز بھی بنائے ہےں T-20رپورٹنگ کے سارے کام کئے ہےں ۔
چنری کس طرح بنتی ہے اس پر اےک ڈا کےونمنڑی فلم بھی بنائی عاصمہ نے اسٹےڈی کےلئے بہت محنت کی لےکن انھےں اپنی ہمت کا صلہ نہےں ملا لےکن اس باہمت لڑکی نے ہمت نہےں ہاری اور ابھی تک اپنے مقصد کو حاصل کر نے کےلئے جدوجہد کر رہی ہےں۔
عاصمہ کا خواب ہے کہ کوئی اچھی سی گورنمنٹ جاب مل جائے اگر جاب نہےں ملتی ہے تو پھر اسی فےلڈ مےں آگے جانا چاہےں گی ۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Wednesday, 9 March 2016

Katchi Abadis of Hyderabad - Mehnaz Sabir

What measures govt has taken to regularise thee settlements?
Should name some major abadis. Which is oldest one,
 How they developed. There are many in main city areas.  and also in cantonment board areas. 
 Refer to soem reports of govt or research reports etc.
Article
Katchi Abadis of Hyderabad
Mehnaz Sabir
MA (previous)
2k16/MMC/36 Previous

There are many katchi abadis in Hyderabad from that 99 katchi abadis had been identified in the district, which included 54 in taluka city,39 in taluka Latifabad and three each in Qasimabad and Hyderabad rural talukas.
All the people who are living in katchi abadis they mainly live in the houses that are made of bricks, clay or mud. In their houses there are almost two or three rooms. All the families live together in joint way because the poor people cannot afford more than one houses.
Deficiency of facilities are very much present there, neither gas, nor clean water and even electricity is not present in some katchi abadis. Heap of garbage has also been seen there, their children also plays games on that dirty place and become sick but government does not survey at all.
Some people of katchi abadis are very poor that they have not even the houses of mud and bricks. They live in tents (Jhuggis). Sometimes it happens fire spread out in jhuggis due to which there are many loss of lives emerged and by dint of this fire majority of children become scorch and died, some where it happens that poor people become homeless. Government does not take any action regarding this sorrowful situation because these people have not any status in society therefore no response of government appeared. They themselves start leading their lives and construct their jhuggis again.
Poverty, being the main hindrance in rural development, causes many social problems as well infect, it has made the rural society both rigid and iniquitous. Crimes like theft, robbery, kidnapping are actually the outcome of poverty in the society. Most of the intellectuals in Pakistan are agreed on the maxim that poverty is the worst course for any society. This is the poverty that make the people of the society do illegal activities. If one has no food for himself and his family, no cloth for himself and his family, no health care facilities, no respect in his society then how can we expect that he will observe all the moral as well as legal Laws of his society and his country. So, poverty is the mother of all the challenges of rural development. The sole solution to tackle these challenges is justice and equal distribution of country’s resources among the people. If we cannot do so, this will be so ferocious thing that we could not repent in future.
Unemployment is another challenge in the rural development of Pakistan. This is a serious social problem. It hinders the smooth running of a country. Revolt among the masses against the government had always been exercised mainly because of unemployment. It can cause intractable social problems and massive corruption. Therefore it should be tackle before it paralyses the whole structure of society. In Pakistan the challenge of unemployment is so fierce that it seems that this will wash away all the efforts being done for the development of rural areas.
Further, rural households with low income do not have enough saving capacity due to their low incomes to enable adequate capital formation for raising the productivity of both land and labor and there by optimizing their potential. Mass migration from rural areas to cities will lead an increase in katchi abadis or unplanned settlement in all of Pakistan cities.
Why is it so hard to accept the facts? First go and check these katchi abadis. You cannot find a solution unless you accept that there is a problem. Many of these katchi abadis are illegal and have poor facilities. No clean water and sewerage, infact some of these are next to sewerage nalas. So what do you expect, healthy atmosphere? Do your poverty and police corruption easily find gambling and drugs dens there.
Government must take the serious decision and must act on these attempts, so that the lives of people will be better and condition would be better of our country and then our country will progress n good manner. 
Under Supervision of Sir Sohail Sangi
#MehnazSabir, #Hyderabad, 

Saturday, 13 February 2016

Saeeda Shams Interview by Mehnaz Sabir

Do not put question number on questions. 
 foto is needed. No mention of her educational qualification. 
 U can see how English words have disturbed the format. avoid to use English words 

Saeeda Shams Interview by Mehnaz Sabir Roll no :- 2k16/MMC / 36 (Preious0)

 انٹرویو 
 مہناز صابر
سعیدہ شمس الدین سے انٹرویو بطور تعلیمی ماہر
تعارف :۔
 لطیف آباد کی رہائشی مسز سعیدہ شمس الدین ایک پرائیوٹ اسکول اور کالج کی مالک ہیں۔ وہ گزشتہ 39سال سے کامیا بی کے ساتھ اسکول چلا رہی ہیں۔ ان کے شوہر اور بچے بھی اسکول کا نظام سنبھا لنے میں انکا ساتھ دیتے ہیں ۔ان کے اسکول میں تقریبا 1500شاگرد اور 90سے زیا دہ اساتذہ ہیں۔ ان سے یہ انٹرویو بطور ایک ایجو کیشن ایکسپرٹ کے لیا گیا ۔

سوال: آپ نے پرائیوٹ اسکول ہی کیو ں کھولا ؟
جواب : کیونکہ گو رنمنٹ اسکول میں تعلیم کا معیا رزیا دہ اچھا نہیں ہے میں اپنی قوم کے بچوں کو اچھے معیار دینا چاہتی تھی تا کہ وہ زندگی میں اپنا مقصد حاصل کر سکیں ۔

سوال: پرا ئیوٹ اسکول والوں نے تعلیم کو کا روبار بنا یا ہوا ہے ؟
جواب: یہ بات کسی حد تک صحیح ہے مگر تعلیم دینا ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے جس میں سچائی اور ایمانداری کی ضرورت ہے اسکو کاروبار بنا نا غلط ہے کچھ ادارے ایسا کر رہے ہیں پھر وہا ں تعلیم نہیں کمائی ہو تی ہے مگر ہمارے ادارے میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔

سوال نمبر 3 بچوں کو اچھی تعلیم دینے کے لئے آپ ٹیچر کی قا بلیت کا کس طرح اندازہ کر تے ہیں ؟
جواب میں ٹیچر کا تعلیمی ریکا رڈ دیکھتی ہو ں اسکی Skillsپر فوکس کر تی ہوں کلاس میں اسکے پڑھانے کا طریقہ دیکھتی ہو ں اور اسکے علا وہ یہ کہ وہ بچوں کی پرابلمز کو کس طرح دل کر ے ہیں ۔

سوال نمبر 4 بچوں کی اچھی تر بیت میں آپکے اسکول کا کتنا حصہ ہے ؟
جواب میں صبح اسکول اسمبلی سے ہی بچوں پر نظر رکھتی ہو ں اور ٹیچرز کو بھی اس بات کی تر بیت دیتی ہوں کہ بچوں کو نصاب کی تعلیم کے ساتھ اچھا انسان بنے کی تعلیم دیں تمیز بھی سکھائیں میں خود بھی بچوں کو آفس میں بلا کر سمجھا تی ہو ں میرے خیا ل سے بچوں کا اخلاقی معیا ر بلند کر نے میں ہمارا کر دار اچھا ہے ۔

سوال نمبر 5 آپ کون سا نصاب پڑھا رہے ہیں ؟
جواب ہم مختلف نصاب پڑھا تے ہیں سندھ ٹیکسٹ کا بھی ہے Oxford کا بھی ہے اور دوسرے پبلشرز کابھی جو کتابیں تعلیمی معیار میں بھی اچھی ہو ں اور بچوں کی سمجھ میں بھی آئے مختلف Levelsمیں ہم نے اچھا نصاب رکھا ہے ۔


سوال نمبر 6 آج کل انگلش کا crazeکیوں ہے ؟جبکہ بچہ اپنی مادری زبان میں زیا دہ اچھا پڑھ سکتا ہے ؟
جواب یہ با ت صحیح ہے کہ بچے ما دری زبان میں زیا دہ اچھا سیکھتے ہیں لیکن مستقبل میں انکو انگلش کا سامنا کر نا ہے اس لئے شروع سے اگر انگلش ہو گی تو آگے جا کے انھیں مشکلات کا سامنا نہیں کر نا پڑے گا ۔

سوال نمبر 7 آپ کے پاس زیا دہ تر کس back groundکے بچے آتے ہیں ؟
جواب زیا دہ تر middle classکے بچے ہیں کچھ upperاور power classکے ہیں کیونکہ فیس منا سب ہے تعلیم کا معیا راچھا ہے اس لئے پر کلاس کے بچے ہیں ۔

سوال نمبر 8 جدید تعلیم کے لحاظ سے آپ شاگر دوں کو کس چرح تر بیت دے رہے ہیں ؟
جواب جدید تعلیم کے لئے کمپیوٹر اور انگلش پر زیا دہ توجہ دے رہے ہیں ۔

سوال نمبر 9 کو ئی ایسا طریقہ جس سے ہم سیکھنے کے عمل کو بہرت بنا سکیں ؟
جواب بس سچائی اور نیک نیتی سے کا م کریں تعلیم کاروبار نہ بنا ئیں اپنا فرض سمجھ کر تعلیم دین اور لالچ سے بچیں انشا ءاﷲ نظام بہتر ہو گا ۔

سوال : کیاآپکے اسکول اور کالج کے شاگر دوں کی بورڈ میں پو زیشن ااتی ہے ؟
جواب بچے پو زیشن لیتے ہیں اوربا قی سب بچوں کا رزلٹ بہت اچھا آتا ہے ۔

سوال نمبر 11 لڑکیوں کی تعلیم سو سائٹی میں کیا اہمیت ہے ؟
جواب ہر پڑھنا لکھا اور عاقل شخص ہی کہے گا کہ لڑکیوں کو تعلیم دلانا بہت ضروری ہے کیونکہ بڑی ہو کر لڑکی نے ہی گھر چلانا ہے اور معاشرہ بنانا ہے ۔

سوال نمبر 12 بے شمار بچے تعلیم سے محروم ہیں آپکے خیا ل میں کیا اقدامات کرنے چا ہیں کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے 
جواب میرے اسکول کھولنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر کلاس کے بچے کو تعلیم دوں آپ نے دیکھا ہو گا ہمارے یہاں بہت سارے غریب بچے بھی پڑھ رہے ہیں اور ہم انھیں مفت تعلیم دے رہے ہیں اسی طرح اگر سب لوگ سوچیں توہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے گا ۔

سوال نمبر 13 آپکے اسکول میں کون کون سی غیر نصابی سر گر میاں ہو تی ہیں ؟
جواب ہمارے اسکول میں گیم کے پریڈ ہو تے ہیں اسکے علاوہ ہم بچوں کو سر گرم رکھنے کے لئے تقریری اور شعرو شا عری کے مقابلے کر واتے ہیں ۔

سوال نمبر 14 والدین کے ساتھ آپ کس طرح رابطے میں رہتے ہیں ؟
جواب ہم ہر بچے مہینے والدین کو بلاتے ہیں اور بچے کی پرفارمنس بتا تے ہیں اگر کبھی ضرورت پڑ جا تی ہے تو انھیں فون کر کے بتا دیتے ہیں ۔

سوال نمبر 15 کو ئی ایسا پیغام جو آپ بچوں ،نو جوانوں اور ٹیچرز کو دینا چا ہیں ؟
جواب میں سب کو یہ پیغام دینا چاہوں گی کہ ہر کام کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر کریں اپنے مقصد کو حاصل کر نےکے لئے محنت اور لگن سے کام کر یں اپنے دل سے نفرت اور حسد کو نکال کرآگے بڑھیں ۔

اختتامیہ :۔
میں نے مسز سعیدہ شمس الدین کا انٹر ویو ایک ایجوکیشن ایکسپر ٹ کے طور پر اس لئے لیا ہے کیونکہ آج کل لو گوں نے کمائی کے لئے اسکول بہت کھولے ہو ئے ہیں لیکن تعلیم کا معیار بہت خراب ہے لہذا روشنا س کر وانا چا ہتی ہوں 
  Mehnaz Sabir
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Department of Media and Communication studies University of Sindh, Jamshoro