Showing posts with label آرٹیکل. Show all posts
Showing posts with label آرٹیکل. Show all posts

Friday, 1 April 2016

حیدرآباد میں بڑھتی ہوئی گندگی اسکا بھی علا ج ہو Hyderabad

 حیدرآباد  میں بڑھتی ہوئی گندگی اسکا بھی علا ج ہو
 shahrukh
شاہ رخ 

پاکستان کا چھٹا اورسندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جس کی آبادی تقریباً پینتالیس لاکھ ہیں ۔
جہاں ہرروز تین لاکھ کلوسے زیادہ کچراپھیکا جاتاہے۔

شہر میں کچرااٹھانے کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر علاقوں میں شہری جلا کر ختم کرتے نظر آتے ہیں جس سے ماحول میں آلودگی کے ساتھ بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔حیدرآباد میں باکمال افسران کی لاجواب کارکردگی نے عوام کے منہ کھولے چھوڑ دئیے ہیں کیو نکہ عوامی خدمت کیلئے موجود افسران نہ تو دفاتر میں میسر ہیں اور نہ ہی شہر میں صحت وصفائی کے انتظامات کرتے نظر آتے ہیں ۔حیدرآباد کے شہری صحت و صفائی کی سہولیات کو ترس گئے ہیں جگہ جگہ گندی کے ڈھیر اور سیوریج کے پانی نے جینا دوبھر کردیا ہے مگر صبح شام عوام کی خدمت کرنے والے دعوے دار کہیں میسر نہیں ہیں۔ شہر میں شاید ہی کوئی شاہراہ ہو گی جہاں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر نہ ملیں جگہ جگہ گندگی اور سیوریج کے پانی کی وجہ سے گاڑیوں کا چلنا مشکل اور پیدل چلنا نا ممکن ہو چکا ہے ۔

 حیدرآباد بلدیہ نے شہر سے کچرا اٹھانے کے معاہدے میں ناکامی کے باوجود کمپنی کے ٹھیکے اور علاقے میں اضافہ کردیا ہے تاہم شہر میں صفائی کی صورتحال تاحال ابتر ہے جس پر ذمہ دار ان نے آنکھیں بند رکھی ہیں حیدرآباد میں کچرے کے جا بجا لگے ڈھیر اٹھانے میں ناکام پرائیوٹ کمپنی کے معاہدے میں توسیع کردی ہے جبکہ لطیف آباد کے ساتھ سٹی کا علاقہ بھی بااثر سیاسی شخصیت کے اشاروں پر مذکورہ کمپنی کودے دیا گیا ہے۔

 شہر کے علاقے لطیف آباد میں پرائیوٹ کمپنی کو 225 ٹن کچرا 690 روپے فی ٹن کے حساب سے گذشتہ سال دیا گیا تھا مگر کمپنی کی جانب سے رقم کی وصولی کے باوجود کچرا اٹھانے کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔شہر میں گندگی کی ابتر صورتحال کے باوجود بااثر سیاسی شخصیت کے اشاروں پر کمپنی کے معاہدے میں توسیع کے ساتھ سرکاری گاڑیاں بھی کچرا اٹھانے کیلئے مہیا کردی گئی ہیں مگر معاہدے پر عمل درآمد کیلئے حکام بالا خاموش ہیں ۔

حیدرآباد میں کچرے کے ڈھیر اور سیوریج کا گندہ پانی شہریوں کیلئے عذاب بن گیا ہے اورصفائی پر ماہانہ کروڑ روپے کے اخراجات کرپشن کی نظر ہورہے ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔

 حیدرآباد میں جگہ جگہ لگے گندگی کے ڈھیر اور شاہراہوں پر کھڑا سیوریج کا گندہ پانی شہریوں کے لئے عذاب بن گیا ہے مگر صفائی کے ذمہ دار ادارے تمام تر صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔بلدیاتی اداروں میں سینٹری ورکرز سینکڑوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود شہر میں صفائی کی خراب صورتحال ہے اور سیوریج کے گندے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں مگر ماہانہ کروڑ روپے کے اخراجات باقاعدگی سے کئے جارہے ہیں۔

دوسری طرف ایڈمنسٹریٹرکاعہدہ دوماہ سے خالی ہے جو کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کے کاغذات،رجسٹریاں،فائلوں میں پڑی ہے عوام دربدر پھررہے ہیں کوئی سننے والا نہیں ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں شہر میں صفائی ستھرائی کانظام ناپیدہوکر رہ گیا ہے حکومت سندھ کو چاہیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد میں او۔پی۔ایس ۔غیرقانونی ترقیوں اوردیگر محکموں سے آئے ہوئے افسران کو عہدوں سے فارغ کرکے صاف اورشفاف طریقے سے میرٹ کی بنیاد پر افسران کو بھرتی کرے جو بلدیہ کے نظام کو منظم طریقے سے چلاسکے کہیں ایسا نہ ہو کہ شہر حیدرآباد کچرے کے ڈھیر تلے دب جائے۔
shahrukh
M.A(previous)
Roll no #2k16MMC-71 
Under supervision of Sir Sohail Sangi
 #Hyderabad, #shahrukh

Sunday, 6 March 2016

میڈیا کی وجہ سے بڑھتی ہوئی احساسی محرومی

Needs improvement, u do not know the role of media

میڈیا کی وجہ سے بڑھتی ہوئی احساسی محرومی 

تحریر: واثق احمد میمن 
پاکستان میں پہلی دفعہ ایک فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں مکمل طور پر نہ فقط اظہار رائے کی کھلی آزادی ملی بلکہ کئی میڈیا کے ادارے و جود میں آئے لیکن ہمارے ملک کے میڈیا جہاں عوام میں سیاسی سماجی اور معاشی مسائیل سمیت دوسرے کئی مسائل اور معاشرتی برائیوں سے عوام کو آگاہی اور شعور پھیلاتا رہا ہے وہاں لوگوں میں صوبوں اور علاقائی تفریق اور احساس محرومی کو بھی جنم دیا ہے پاکستان کی قومی میڈیا کے ادارے قومی دھارے میں کام کرنے کی بجائے خاص طبقاتی اور نسلی بنیا د پر ستی پر کام کرہا ہے جس کی کئی مثالے موجود ہے کراچی جو سندھ کا دارلخلافہ ہے اور صوبوں سے سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے کراچی میں نسلی سیاست کرنے والے گروہوں کی اپنے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر کے شہریوں کو یرغمال بنا کر اپنی نسلی سیاسی طاقت برقرار رکھنے کی سرگرمیوں کے دوران جھگڑوں میں مرنے والوں کو قومی میڈیا میں کئی دنو تک سرخیوں میں اور بریکنگ نیوز میں عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے دوسری طرف اندرون سندھ سے تعلق رکھنے ولا کوئی بھی لیڈر یا کارکن جو صرف صوبے کی سیاست کر تا ہے اور اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کی سیاست کرتے ہوئے ریاستی ادارو ں دہشتگردی کا نشانہ بن جاتا ہے اورپورے صوبے کے کروڑوں عوام بطور احتجاج روڈ پر اپنا سیاسی حق استعمال کرتے ہے ۔ اور سندھ بھر میں بطور احتجاج مکمل طور پر ہڑتال کر تے ہیں یو قومی میڈیا اس پورے واقعہ یا احتجاج کی خبر کوئی اہمیت نہیں دیتا قومی میڈیا کی ایسی دو طرفہ اور امتیازی رویہ سے بھی ملک میں صوبائیت مذہب پرستی اور احساس محرومی کو تقویت ملتی ہے ملک کی تیل اور گیس سمیت قدرتی وسائل کی 70%فیصد ملکی پیداوار صوبہ سندھ سے ملتی ہے جو پیدا وار سندھ کے اندورن علاقوں سے حاصل ہوتی ہے لیکن ان قدرتی وسائیلوں سے ملکی و غیر ملکی اداروں کی ہونے والی معاشی فوائدو سے سندھ کے مزکورہ پیداواری علاقوں کو مکمل طور پر نظر اندار کر کے صرف شہری علاقوں کاور دوسرے صوبوں کو فوائد پہنچائے جا رہے ہے جب کہ قدرتی و سائیلوں کی تلاش اور معاہدات میں صاف لکھا ہے ان علاقوں سے ملنے والی پیداور مد میں ہونے والی آمدنی کا ایک چوتھائی حصہ ان پیدواری علاقوں پر خرچ کر نا ہے اور ان علاقوں کی سماجی زندگی میں ترقی لازم ہے روزگار کے مواقع ان علاقوں کے سیاسی سماجی اور سول سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ ان معاہدات پر عمل درآمد کے لئے آواز بلند کرتے رہے ہیں لیکن سندھ کے اس اہم معاشی مسئلے پر قومی میڈیا اپنی تعصب پرستانہ پالیسی اور رویہ کی بنیاد پر عمل پیرا ہوتے کبھی بھی اپنے نشری خبروں اور مذاکراتی پروگرام ز میں جگہ نہیں دیتی میڈیا سندھ کے اس اہم معاشی مسئلے کو صابائیت کی ہوا دے کر ملک کے لوگوں میں تفریق اور احساس محرومی پیدا کر رہا ہے ۔ پاکستان کی قومی میڈیا کی امتتازی پالیسی اور رویہ کی وجہ سے جہوں عام لوگوں میں احساس محرومی پائی جاتی وہاں عام لوگوں کے روز مرہ کے مسائل اور ملکی معاشی مسائیلوں میں بھی اضافہ ہورہاں ہے ہمارا ملک ایک ذرعی ملک ہے اور ملک زراعت کی پیدا وار میں کسان کا اہم کردار ہے جسکو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ملک کے اکثریتی دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کو درپیش مسائل جس میں خاص طور پر زراعت کی کاشکاری میں حائل مسائل کا سا منا ہے ۔ جس میں پانی کی شدید قلت اور خاد بیج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زرعی فصلوں کی مارکیٹوں میں قیمتوں میں انتہائی کمی جیسے مسائل پر میڈیا کی جانب سے کوئی توجہ نہ دینے کے باعث ملک کی ایک بہت بڑی آبادی اہم معاشی مسائلوں میں جگڑی ہوئی ہے اور احساس مھرومی میں مبتلا ہے اس طرح ملک بھی میں بڑھتے ہوئے جرائم کی نشاندہی میں بھی ملک کے اندرونے علاقوں کو مسلسل نظر انداز کر کے شہری اور مخصوص طبقے کے ساتھ پیش آنے والے جرائم کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے اکثریتی دیہی علاقوں میں جرائم اور قبائیلی مسائل پر شکار ہونے والے عام لوگوں کو پولیس اور روایتی وڈیرہ شاہی اور سیاسی لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے ۔ جہاں پر اس کے ذمہ دار ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمران ہے وہاں پہ کسی حد تک ہمارے 
میڈیا پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
Name: wasique Memon ( MA Previous) 
Roll: NO: 2k 16 MMC 70 

Friday, 4 March 2016

تھرمیں قحط: موت نے غریبوں کا گھر دیکھ لیا Hoor Khan

Hoor Khan
تھرمیں قحط: موت نے غریبوں کا گھر دیکھ لیا
نام ۔ حور خان ۔ ریوائیزڈ۔
رول نمبر۔۷۲
ؑٓٓ ٓ آرٹیکل۔۔
قحط کا کیا مطلب ہے؟قحط کا مطلب ہے ۔کھانے اور پانی کی ایسی کمی جس کی وجہ سے انسان اور جانور بھوک اور پیاس سے مرنے لگیں۔ قحط سے مرنے والاحادثے کا شکار ہونے والے کی طرح ایک جھٹکے سے نہیں مرتا قحط کا شکار ہونے والے کا دم ایک دم نہیں نکلتا بلکہ وہ ہر دم موت کے قریب ہوتا ہے ہر لمحہ ایک تڑپ اس کے وجود میں دوڑ رہی ہوتی ہے وہ زندہ رہنے کی ہر کوشش میں ناکام ہوتا چلا جاتا ہے وہ زندہ رہنے کی کوشش میں سب سے پہلے پاکی اور ناپاکی میں فرق بھولتا ہے پھر صاف اور گندے کی تمیز سے آزاد ہوجاتا ہے با لآخر رشتوں کی محبت اور احساس کھو بیٹھتا ہے ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک ماں اپنے ہی بچے کو بھوک مٹانے کے لئے چیر پھاڑدے ۔

ضلع تھرپارکر کی ۰۷ فیصد آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی ہے اور غربت کے مارے یہ لوگ قحط کا شکار ہوچکے ہیںکتنے ہی معصوم بچے عدم خوراکی کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں ایک بار کسی بڑے لیڈر نے حکومت سندھ کو ۰۶ہزار بوری گندم فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی اور امداد دی جانے والی گندم کا اک اک دانہ متاثرین تک پہنچ گیا تو ۴کلو گندم ایک فرد کو ملے گی اور یہ ۴ کلو گندم متاثرینِ قحط کو اگلے قحط تک چلانی پڑے گی یعنی ایک سال تک ہمارے سندھ کے حکمرانوں کو اعوام کی ضرورت صرف الیکشن میں پڑھتی ہے وہ بھی ووٹ لینے کے لئے کچھ دینے کے لئے نہیں، جیسا کہ دودھ دینے والے مویشی کو بھی ان کا مالک دانہ صرف دودھ کی لالچ میں ہی دیتا ہے کچھ یہ ہی حال ہمارے آج کے حکمرانوں کا بھی ہے بلکہ ان جانوروں سے کیے جانے والے سلوک سے بھی بد تر رویہ اختیار کرتے ہیں اپنے ووٹرز کے ساتھ ۔

تھر پارکر میں عورتیں بھوک اور غذائی قلت کے با عث مرے ہوئے بچے جنم دے رہی ہیں تھر پار کر میں بارش کی کمی کا قصوروار حکومت کو نہیں بنا یا جائے ۔حکومت کچھ نہیں کر سکتی کیا یہ جواب قا بلِ قبول ہے۔۔؟انہوں نے کہا کہ محکمہءسندھ بیس سال سے پیپلزپارٹی کے پاس نہیں تھا۔تا ہم تھر میں اگر روزانہ ۲ بچو µں کی موت ہوتی ہے تو ملک بھر میں ۶۰۰ بچے µ روزانہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔لیکن اس پر اتنا شور نہیں کیا جاتا۔ جبکہ میڈیا میں تھر کی صورتحال کے حوالے سے آنے والی رپورٹ میں کوئی صداقت نہیں۔
¾ ¾ دنیا کی اکثر این جی اوز تھر پار کر سے واقف ہونگی ان این جی اوز کے بورڈ تو جابجا نظر آتے ہیں لیکن زمین پر چند ہی کا کام دیکھنے کو ملتا ہے بیرونِ پاکستان سے امداد لینے والی این جی اوز کے لئے تھر پار کر ایک زندہ مرتبہ ہے ان سے گزارش ہے کہ وہ دنیا کو تھر کا مرتبہ سنا کر امداد ضرور حاصل کریں تھر پارکر میں جس انتہا درجے کی غربت اور نا خواندگی ہے اس کا مقابلہ کرنا غیر سرکاری اداروں کے بس کا
 کام نہیںہے پا کستان میں اتفاق فی سبیل اللہ کر نے والوں کے دم سے ان غر یبوں کا کچھ نہ کچھ سہارا ہو جاتا ہے تھر پارکر میں معمولی سی تبدیلی کے لئے بھی حکومتی وسائل اور توجہ کی بھر پور ضرورت ہے لیکن حکومت اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر لاتعلق ہے بہت اچھا ہو کہ صاحبِ خیر خود جا کر متاثرین کی مدد کریں اور ان کے حالات سے آگاہی حاصل کریںاگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو الخدمت کے ذمہ یہ کام کردیںکہیں ایسا نا ہو کہ حشرِ قیامت اللہ ہم سے پوچھے کہ " میرا بندہ بھوکا تھا تو نے اسے کیوں نہیں کھلایا میرا بندہ پیاسا تھاتو نے اسے پانی کیوں نہیں پلایا"
"بموں سے لوگوں کو مارنا دہشت گردی کہلاتا ہے
اور بھوک سے مارنا جمہوریت"
 
Practical work Under supervision of Sir Sohail Sangi 

Thursday, 3 March 2016

غریب بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں Muhammad Umair

There are composing mistakes. U composed ے instead of ی
U can see entire article is not readable on web. 

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi


 
نام محمد عمیر 
رول نمبر 42
کلاس ماس کمیونیکیشن ، ایم اے پریویئس 

آرٹیکل 
 غریب بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں 

آج کے دور میں تعلیم ہرایک کی بنیادی ضرورت ہے ۔کسی بھی قسم کی ترقی کا دارو مدار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے غریب والدین اپنے بچوں کے لئے یہی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے ، مگر پاکسان کا غریبدو وقت کی روٹی کیلئے بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ۔ 
اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں سندھ مےں 53.2پنجاب مےں 36.6فیصد بلوچستان مےں 70.6فیصد اور خیبر بختونخواہ 50.1فیصد آباد ی غربت کا شکار ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ہزاروں روپے فیسیں اعلیٰ تعلیم اور کھانے پینے کی اخراجات ایک غریب کس طرح پوری کر سکتا ہے۔
 پاکستان مےں تعلیمی نظام کا ایک اہم مسئلہ زبان سے بھی متعلق ہے۔ ہم اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کہتے ہیں کہ بچے کو مادری زبان میں ہی اچھی تعلیم دی جاسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ کہتا ہے کہ اچھی تعلیم صرف مادری زبان میں ہی دی جاسکتی ہے۔ مگر ہماراتعلیمی نظام انگریزی ہے ۔ اس کی وجہ سے بہت سے بچے کو پڑھنے لکھنے مےں مشکلات درپیش آتی ہے میٹرک کے بعد انٹر سے تعلیمی نظام شروع ہوجاتا ہے جس سے طلباءکو مزید مسائل درپیش آتے ہیں۔ کیونکہ پہلی کلاس جو سندھی یا اردو زبان مےں پڑھتے آ رہے ہیں ان کے لئے اچانک انگریزی زبان مےںنصاب پڑھنے کی ملے تو بہت سے طلباءکی دلچسپی پڑھائی سے ہٹ جاتی ہے۔
 اگر غریب کا بچہ کسی طرح یونیورسٹی کی تعلیم مےں کامیاب ہو بھی جائے تو اس کو انصاف نہیں ملتا۔ دن رات محنت و لگن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے جب وہ کسی ملازمت کیل ¿ے جاتا ہے اس سے بھاری رقم کا سوال ہوتا ہے جو کہ وہ نہیں دے سکتا ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے بھی روزگار نہ ملے تو کیا فائدہ ۔ 
 پرائیویٹ اسکولوں کی آسمان سے باتیں کرتی فیسیں ہیں جہاں غریب اپنے بچہ نہیں پڑھا سکتے ۔ انٹر کے بعد یونیورسٹی یاپیشہ ورانہ کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ ہے جہاں اور مہنگی فیس ہیں۔ یونیورسٹی وغیرہ کی ہزاروں روپے ایڈمیشن فیس ادا کرنا بہت مشکل ہے ۔ غریب بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے خواب صرف خواب ہی ب رہ جاتے ہیں ۔ پاکستان مےں تعلیم سستی تو ہے لیکن پر پاکستان مےں رہنے والوں کیلئے مہنگی ہے ۔ اور کسی کام کی نہیں۔ غربت کے مارے ماں باپ اپنے بچوں کو کوئی چھوٹا موٹا ہنر سیکھانے پر مجبور ہو رہے ہیں تاکہ کل یہ بچے کسی کے محتاج نہ ہوں۔
دنیا مےں ترقی یافتہ ممالک جن مےں معیاری اور یکسا ں تعلیمی نظام ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات یہ بھی واضح نظر آتی ہے کہ جس ملک جوزبان ہے اسی زبان مےں پڑھایا جاتا ہے امریکہ ہو یا جاپان انڈیا ہو یا انگلینڈ کہیں بھی تعلیم ا ن کی اپنی زبان سے ہٹ کر نہیں دی جاتی سوائے پاکستان کے ۔ پاکستان مےں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ جو کہ تعلیم مختص کیا جاتا ہے پاکستان مےں تعلیمی اخراجات مےں بھی اضا فہ ہوتا جا رہا ہے لیکن تعلیمی نظام میں مصبت تبدیلی نہیں آئی غریب اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں مےں تعلیم دلواتے ہیں ۔لیکن سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کا معیار دن بہ دن گرتا جا رہا ہے اور نجی تعلیم اداروں کی بڑھتی ہوئی فیسیں غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہےں۔ تعلیمی فنڈز کی بات کی جائے تو پاکستان مےں 2.4%فیصد GDPتعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ صرف 11%فیصد ترقیاتی اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے کافی نہیں ۔ بد قسمتی سے دنیا مےں پاکستان دوسرے نمبر پر آتا ہے جس کے 5کروڑ سے زائد بچے ابھی بھی اسکولوں سے باہرہےں ۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی نظام بہتربنانے کے لئے ایسابنیادی کام کرے ملک کا ہر بچہ علم کی دولت سے محروم نہ رہے ۔ 

Department of Media and Communication studies University of Sindh, Jamshoro 

 

Wednesday, 2 March 2016

حیدرآباد میں بھکاري

آرٹیکل
حیدرآباد میں فقیروں کی بھرمار
  2K16/MMC/50
M.A Previous
رحما  ٹالپر
تاریخ لکھنے والوں نے ھمیشہ غریب  طبقوں کو تاریخ سے علیحدہ کردیا ہے ہمیشہ ایسے طبقے کو عليحدہ سمجھا ہے۔ سماج میں امیر اور غریب کے بیچ میں ایک بڑی دیوار حائل ہے۔ فقیروں کا تعلق بھی ایک ایسے طبقے سے ہے جن کا دارو مدار امیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ہر مذہب میں خیراتی کاموں کو پسند کیا گیا ہے۔

سماج کے فقیروں کا ایک ایسا گروہ جس سماج میں ہر طرف نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جب تاریخ میں ان کا ذکرآتا ہے تو امیر طبقے کا امیج بہتر کرنے کی خاطر اس طبقے کو سماج میں رعائیش حاصل کرنے والا  طبقا دکھایا جاتا ہے۔جرمن فلاسفر کا کہنا  ہے کے ہمدردی رحمدلی کے اخلاقی اقدار سماج میں غریب لوگوں کے طبقے کو فوقیت دینا ہے۔فقیروں کے کتنے ہی اقسام ہیں جن میں رومن فلاسفر سینیسا کا کہنا ہے رومن بادشاہت کے زمانے میں بھی پروفیشنل فقیر ہوا کرتے تھے،  اس زمانے میں بھی لوگ بچوں کو اغوا کر کے ان کے بازو یا ٹانگ  توڑ کر ان سے بھیک منگواتے تھے۔بھیک میں ملی ہوئی رقم وہ اپنے بڑوں کو دیتے تھے جس کے بدلے میں وہ صرف ان کو کھانا وغیرہ دیتے تھے  یہ سلسلہ  آج تک جاری ہے۔

کچھ مذاہب میں بھیک مانگنے کو خدا پرستی کا جذبا کہا گیا ہے بدھ دھرم  مرد اور عورت پکشو(فقیر)موجود ہیں۔  جب کے اس مذھب میں عورت کو کوئی ملکیت رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے اور نا ہی معاشرے سے کوئی تعلق۔
ہمارے سماج میں جاگیرداری کلچر کے سبب زیادتی آئی ہے امیر اور دولتمند لوگ غریب اور بھوکے لوگوں کو  کھانا کھلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے وہ معاشرے میں اپنی عزت بڑھانا چاہتے ہیں،  تو طے ہے کے خیرات کے ذریعے نا تو غربت ختم کی جاسکتی ہے اور نا خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
معاشرے میں بھیک مانگنے والا مرض صرف حکومت کی طرف سے تعلیم صحت روزگار اور لوگوں میں فلاحی کاموں میں ذمیداری ڈالنے سے ختم ہوسکتا ہے۔

فقیر ایک ایسی مخلوق ہیں جو ہر پاس پڑوس میں بس اسٹاپ مزاروں پر ہسپتال ہر جگا پر نظر آتے ہیں۔فقیروں میں معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ جو ہرگذرنے والے سے خیرات مانگتے نظر آتے ہیں۔اسلام میں بھیک مانگے کو سخت نا پسند کیا  گیا ہے۔ بھیک مانگنے والی عورتوں کی بہت تعداد گلیوں روڈوں پر نظر آتی ہے جو اپنے معصوم بچوں کو اٹھاۓ ان کو خیرات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

حیدرآباد شہر میں فقیروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔جو مختلف حصوں میں بٹے ہوۓ ہیں۔ جن میں قاسم آباد، وحدت کالونی، بکرا منڈی، ریلوے اسٹیشن، لطیف آباد، سول اسپتال اور  ہیرآباد مشھور ایریا ہیں۔ 

حیدرآباد علاقے مشہور بلال ہوٹل ہے جس کا مالک ارفان ہے وہ خاص فقیروں کے لیے مخصوص ہے یہاں روزانا چالیس سے پچاس فقیر کھانا کھاتے ہیں۔ روزانا دو  وقت   کا کھانا دیا جاتا ہے۔ کبھی دال ، سبزی  یا کبھی  گوشت  دیا  جاتا ہے۔  ہوٹل پر لوگ خیرات صدقا وغیرہ کے پیسے جمع کراتے ہیں جن سےیہ  ہوٹل چلتا ہے۔ وہیں موجود فقیر جس کا نام پیر محمد ہے جن کا تعلق سبزی منڈی سے ہے اس نے بتایا ک وہ پہلے مذدوری کرتا تھا جس سے وہ تین چار سو روزانا کاماتا تھا اس کے سارے گھر والے کماتے ہیں لیکن وہ اپنی مرضی سے بھیک مانگتا ہے، کیونکے وہ اس کی صحت پحلے والی نہیں جس کی وجا سے وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوا بھیک مانگنے سے دو تین سو روپے مل جاتے ہیں جن سے وہ اپنی دوایاں وغیرہ لے لیتا ہے۔ 

ایک دوسرے فقیر جوڑے میاں بیوی نے بتایا جس کا نام الاہی بخش  اور بیوی کا نام صفوراں ہے،  انہوں نے کہا کے کچھ سال پہلے ہم خوشحال زندگی گذار رہے تھے عمر کے آخری حصے میں بے رحم اولاد نے دونوں کو نکال دیا ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ہم بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔

فقیروں کی تعداد اتنی بھڑ گئ ہے  کے  ان سے تعلیمِ ادارے بھی محفوظ نھیں ہیں آپ سندھ یونیورسٹی کو دیکھ لیں وہاں فقیر اتنے زیادہ ہو گئے  ہیں کے  شاگرد بھی ان سے محفوض نہیں ہیں۔  ہر ڈپارٹمینٹ میں فقیر آتے ہیں اور شاگردوں سے بھیک مانگتے ہیں۔ اور ان کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں بھیک لینے کے بغیر نہیں چھوڑتے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی فرض ہے ہم پیشاور فقیروں کو پیسے نا دیں کے اس غلط کام کا خاتمہ ہوسکے۔  اس کے علاوہ اپنے آس پاس رہتے ضرورت مندوں کا خیال رکھیں پشاور صفید پوشاک ضرورت مند لوگ ہی اصل اور زکوات کے حقدار ہیں۔ 

پیشوار فقیروں کی زندگی کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کی وہ کتنا بھی بھیک مانگ لے پیسہ جمع  کرے پھر بھی وہ زندگی کی اسائیشون سے محروم ہوتے ہیں معاشرے میں  ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہےجو اکثر بیماری بھوک اور بدحلی کا شکار ہوتے ہیں 

مہنگائی اور بے روزگاری نےفقیروں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے سال دو ہزار دس پاکستان کی تاریخ کی بدترین سیلابہ جس نے پورے ملک کے ساتھ ساتھ سندھ کو متاسر کیا ان میں جیکب آباد ،کشمور ،شکارپور قمبر شدادکوٹ، لاڑکانہ ، دادو، ٹھاٹہ اور سجاعل شہر بہت ذیادہ متاثر ہوئے ان علاقوں کو لوگوں نے سیلاب کے سبب اپنی جانیں بچاتے ہوئے بڑے شہروں کا  رُخ کیا جس میں ؔحیدرآباد شہر سرِپرست ہے تاریخ کے بدترین سیلاب نےغریب لوگوں کے گھربار مال و ملکیت مکمل طور پر تباھ ہوگئے ایک تو پھلے ہی غربت بدحالی اوپر سے سیلاب نے تو لوگوں بے حال کر دیا وہ ابھی بھی حیدرآباد شہر کی سبزی منڈی    سمیت مختلف علاقوں میں بد حالی کا شکار ہے جن میں سے اکثر پیشاور فقیر بن چکے ہیں۔ ۔۔رحما  ٹالپر
 ۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Department of Media and Communication studies University of Sindh, Jamshoro 

بے روزگاری کسی معذوری سے کم نہیں Sana Shaikh

Further Revised but sent in word. Plz next time try to send it in inpage format.
ثنا شیخ
رول نمبر
 Sana Shaikh   M.A Previous
Mass Communication

ے روزگاری تقریبا تمام ممالک کا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ہر معشیت میں کسی نہ کسی طور پر بیروزگاری کے حالات پائے جاتے ہیں ۔ بے روزگاری کے مسئلے میں زیادہ شدید صورت اس وقت اختیار کی جبکہ 1930ءکے عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پوری دنیا اس کا شکار ہو گئی۔ ان دنوں میں صرف امریکہ میں کروڑوں آدمی بے روزگار ہو گئے۔ اسی طرح پوری دنیا غربت اور بے روزگاری کے جال میں پھنس گئی۔ بے روزگاری بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں مثلا بناوٹی بے روزگاری میں اگر ملک میں افرادی قوت کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو اس ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے مطابق سرمائے میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یوں بہت سے افراد بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دوسری موسمی بے روز گاری جو کارخانے موسم کے لحاظ سے چلتے ہیں یعنی برف اور شوگر ملز وغیرہ ان کے افراد بھی بعد میں بے روز گاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جدید تکنیک کی بے روز گاری ہے۔ یعنی بعض اوقات صنعتی ترقی بھی بے روزگاری کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کپڑے کی صنعت میں پاور لومنر کا استعمال شروع ہوا تو دستی کھڈی کے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ۔ یوں موجودہ جدید دور میں آٹومیٹک مشینوں کے استعمال سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بے روز گاری شدید ترین مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جس کی بڑی وجہ وسائل کا غیر پیداواری کاموں میں استعمال ہے۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پاکستان میں کسی چیز کی کمی ہے جو بیروزگاری میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہو رہی ہے۔ قدرت نے ہمیں قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ اب ان کاصحیح استعمال کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ چاہیں تو اپنی زمین سے سونا اگوا سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر پاکستان زرعی ملک ہے۔ مگر افسوس اسی شعبے میں بیس سے پچیس فیصد بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ کیونکہ کم زمین پر زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ یوں بظاہر وہ لوگ کام تو کرتے ہیں مگر بے کار ہوتے ہیں۔ کیونکہ چار ایکڑ زمین پر دو آدمی بھی کام کر سکتے ہیں۔ جہاں چار آدمی مصروف ہیں یوں دو آدمی مخفی بے روز گاری کا شکار ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی جو کاشتکاری میں استعمال ہو رہی ہے۔ مثلا گندم کاٹنے والی مشین وغیرہ جسکی وجہ سے لاکھوں غریب بے روزگاری کا شکار ہوتے ہیں۔ اب ہر عام آدمی بھی بے روز گاری سے وقف ہے فیکٹریوں میں جدید مشینری کے استعمال سے آدمیوں کی ضرورت کم اور مشینری کی زیادہ مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔

یوں ہنر مند آدمی بھی بے روز گار ی کے چنگل میں پھنس گیا ہے۔ پڑھے لکھے افراد ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے سڑکوں پر خاک چھان رہیں ہیں مگر رشوت دینے کے لیے جیب گرم نہیں، سفارش کے لیے تعلقات نہیں ۔یوں مہنگائی کے دور میں تعلیم اور ہنر کی بھی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔

پرائیویٹ شعبوں میں بھی رشوت پہلے لی جاتی ہے جب جا کر 8000سے10000کی نوکری ہاتھ آتی ہے۔ یہاں بھی تعلیم میں گریڈ دیکھے جاتے ہیں مگر تنخواہ میں 7500سے 8000تک واجبات ادا کرنے کے بعد بچتے ہیںاور یوں ایک انمول نعمت ہاتھ آتی ہے۔ اب یہ 8000میں سے ایک فرد بجلی کا بل 4000اور گیس کا بل 1000روپے ادا کرے تو وہکیسے باقی پورا مہینہ پیٹ کا دوزخ کو بھرے؟ اسکے باوجود اسی پرائیویٹ ادارے میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وجہ صرف بے روزگاری ہے اگر وہ یہ بھی چھوڑ دیں تو اس مہنگائی کے دور میں ضروریات زندگی کیسے پوری کریں ۔

اور دوسری طرف سرکاری شعبہ جات، ان شعبوں میں نوکری تو ایک عام آ دمی کے خواب و خیال سے بھی باہر ہے کیوں کہ یہاں سب سے زیادہ رشوت سفارش اور بے ایمانی کام آتی ہے وہ آدمی جس کے پاس سرمایہ ہے اور بڑی سے بڑی سفارش ہوتو نوکری ان کے لیے پہلے ہی مقرر کر دی جاتی ہیںخواہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد صرف برائے نام اخبارات اور اشتہارات میں نوکری کے اشتہارات دیے جاتے ہیں ۔

بے روز گاری کئی معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔جو لوگ جو حالات سے گھبرائے ہوئے اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے دہشت گردی اور بے راہ روی جنم لیتی ہےں ۔ شایداسلئے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی مجرم نہیں ہوتا بلکہ حالات اور معاشرہ اس کی افزائش کے ذمے دار ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں بے روزگاری کی بڑی وجہ انتظامیہ کی نا اہلی ہے کیوں کہ جس ملک کی زمین اتنی زرخیز ہو اور معدنیات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قومی آمدنی بھی معقول ہو وہاں روز گار کے مواقع پیدا کرنے کوئی مشکل نہیں ہوتے ضرورت صرف موثر منصوبہ بندی اور منظم طریقہ کار کی ہے۔ قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے یعنی بجلی جس میں تقریبا ایک عرب روپیہ اور موبائل فون کے بیلنس پر ہی صرف ایک دن کا ٹیکس عربوں روپے بن جاتا ہے اسکے علاوہ دیگر شعبوں سے بھی ٹیکس حاصل کئے جاتے ہیں اگر ان کا استعمال صحیح ہو جائے تو اس ملک میں بے روز گاری تو ایک طرف معاشرے میں غربت کا نام بھی غائب ہو جائے۔ لیکن افسوس ہمارے قومی خزانے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ان میں جو بھی ڈالا جائے اضافے کی بجائے کمی ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بین الااقوامی قرضے اٹھائے جاتے ہیں جن کا بوجھ بھی عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ کبھی ٹیکسوں میں اضافہ کر کے تو کبھی مہنگائی کے نام پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ۔ ان تمام خساروں کو پورا کرنے کے لیے ہماری حکومت قرضوں پر انحصار کرتی ہے پاکستان میں پہلی بار قرضہ 1950ءمیں 57ملین ڈالر سالانہ کے حساب سے لیا جبکہ 1958ءکو یہ قرضے حاصل کئے گئے یوں آج تک یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ مگر ہمارے شاندار حکمرانوں کے کارنامے دیکھ کر غیر ممالک نے بھی قرضوں سے انکاری کے لیے ٹھوس وجہ تلاش کر لی ہے۔ یوں آج پاکستان صرف ناکامی اور بے روزگاری کے علاوہ معاشی پسماندگی کا بھی شکار ہے۔ کیا اس ملک میں ایسا ایک بھی شخص نہیں بچا جو فخر سے سر اٹھا کر کہہ سکے ابھی کچھ نہیں بگڑا میں اس ملک کو سنواروں گا؟ کیا کوئی امید کی کرن باقی نہیں؟ ہمارے سارے حکمران صرف تماشا دیکھنے اور اپنے لیے سوچ رکھتے ہیں؟ کوئی شخص بھی نہیں جو اس سر زمین پاک کی خاطر کچھ کرے؟ اگر ہے تو سامنے آئے ملک کو اس وقت بہت ضرورت ہے سچے جذبے، مخلص رویے اور سچی لگن کی ۔جس کا مقصد صرف ملک کی بھلائی اور ترقی ہو اور ملک کو بے روزگاری کے اندھیروں سے نکال کر روزگار کے راہ پر ڈالناہو۔ جو اپنے بارے میں بعد میںسوچے پہلے ملک کے بارے میں سوچے ۔

Revised. U may see ur revised version how it looks like

کمپوزنگ کی بہت غلطیاں ہیں۔ایک نظر دیکھ لیتے تو یہ غلطیاں دور ہو سکتی تھیں۔ آپ نے ٹاپک کے لئے ایک پرکشش جملہ ” بیروزگاری کسی معذوری سے کم نہیں “ تو لکھ دیا لیکن اس آرٹیکل میں یہ جملہ جسٹیفائی بھی کرو۔

ثنا شےخ ۔۔۔۔۔ اےم اے(پرےوےس) ۔۔۔۔۔ رول نمبر 55
میڈےا اےنڈ کمیونےکشن اسٹڈیز


ارٹےکل
      بیروزگاری کسی معذوری سے کم نہےں
بے روز گاری تقرےبا تمام ممالک کا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ہر معےشت مےں کسی نہ کسی طور پر بےروزگاری کے حالات پائے جاتے ہےں ۔بےروزگاری کے مسئلے مےن زیادہ شدید صورت اس وقت اختےار کی جبکہ ۰۳۹۱ ع کہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پوری دنیا اس کا شکار ہوگئی ۔ اس کا شکار ہوگئی ۔ ان دونو ں میں صرف آمرےکہ مےں کروڑوں ٓدمی بےروزگار ہوگئے۔ اسی طرح پوری دنےا غربت اور بےروزگاری کہ حال میں پھنس گئی ۔

بےروزگاری بھی مختلف قسم کی ہوتی ہےں مثلا بناوٹی بےروزگاری مےں اگر ملک میں افرادی قوت کے مقابلے مےںسرمائے کی کمی ہو اس ملک مےں آبادی کہ بڑہتے ہوےرجحان کہ مطابق سرمائے مےں اضافہ نہیں ہوتا۔ یوں بہت سے افراد بےروزگاری کا شکار ہوجاتے ہےں۔
دوسرے موسمی بےروزگار ی جو کارخانے موسم کے لحاظ سے چلتے ہےں یعنی برف اور شگر ملز وغےرہ ان کارخانوں میں کام کرنے والے مسوم ختم ہونے کے بعد بےروزگاری کا شکار ہوجاتے ہےں ۔

تیسرے نمبر پر جدید تکنیک کی بےروزگاری ہے یعنی بعض اوقات صنعتی ترقی بھی بےروزگاری کی باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کپڑے کی صنعت مےں پاورلومنر کا استعمال شرہع ہوا دستی کھڈے کے لاکھوں مزدور بےروزگار ہوگئے یوں موجودہ دور مےں اٹومےٹک مشےنوں کا استعمال سے بےروزگاری میں شدےد ترےن مسئلے کی صورت اختےار کر چکا ہے۔ جس کی بڑی وجہ وسائل کا غےر ضروری وسائل کا غےر پےداواری کاموں مےں استعمال ہے کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پاکستان کس چعز کہ کمی ھے جو بےروزگاری معں دن دگنی رات چگنی ترقی ھورھی ہے قدرت نے ہمےں قدرتی وسائل سے نوازا ہے اب ان کا صحےح استعمال کرنا ہمارے ہاتھ معں ہے چاھےں تو اس زمےن سے سونا اگوا سکتے ہےں ۔

بنےادی طہر پر پاکستان زرعی ملک ھے مگر افسوس اسی شعبے مےں بےس سے پچےس فیصد بےروزگاری جنم لےتی ہے کےونکہ کم زمےن پر زےادہ افراد کام کرتے ہےں یوں بظاھر وہ لوگ کام تو کرتے ہےن مگر بےکار ھوتے ہےن کےونکہ چاراےکڑ زمےن پہ دو آدمی ہی کام کرسکتے ہےں جھاں چار آدمی مصروف ھےں وہاں دو آدمی بےروزگاری کا شکار ہےں ۔ جدےد ٹےکنالوجی جو کاشتکاری میں استعمال ہورھی ہے مچلا گندم کاٹنے والی مشین وغیرھ جسکی وجہ سے لاکھون غرےب بےروزگاری کا شکار ہوتے ہےں اب ہر عام آدمی بھی بےروزگاری سے واقف ھے فعکٹرےون مےں جدید مشنےں استعمال سے آدمےوں کی ضرورت کم مشینری کی زیادہ مانگ بڑھتی جا رھی ہے۔

ےوں ہنر مند آدمی بھی بےروزگاری کے چنگل مےن پھنس گےا ہے پڑھے لکھے افراد ہاتھون مےں ڈگرےان اتھائے سڑکوں پر شاک چھانرھے ہےں مگر رشوت دعنے کے لئے جےب گرم نھےں سفارش کے لئے تعلقات نھےں ، ےوں تعلےم وار ہنر کی بھی قےمتےں مقرر کر دےگئی ہےں ۔

پرائےوٹ شعبوں مےں بھی رشوت پھلے لی جاتی ہے تب جاکر ۰۰۰۸ سے ۰۰۰۰۱ کی نوکری ہاتھ آتی ہے ۔ ےھاں بھی تعلےم مےں گرےڈ دےکھےں جاتے ھےں مگر تنضواہ ۰۰۵۷ سے ۰۰۰۸ تک واجبات ادا کرنے کے بعد بچتے ھےن اور ےوں اےک انمول نعمت ہاتھ آتی ہے۔ اب آپ ےہ ۰۰۰۸ مےں سے اےک افراد بجلی کا بل ۰۰۰۴ اور گےس کا بل ۰۰۰۱ روپے ادا کرے تو وہ کےسے باقی پورا مھینہ پےٹ کہ دوزض کو بھرے ؟ اسکے باوجود اسی پرائےوٹ ادارے مےں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے وجہ صرف بےروزگاری ہے اگر وہ ےہ بھی چھوڑ دےں تو اس مھنگائی کے دور مےں ضرورےات زندگی کےسے پوری کرےں۔

اور دوسری چرف سرکاری شعبہ جات ،ان شعبوں مےں نوکری تو اےک عام آدمی کے خواب و خےال سے بھی باھر ہے کےونکے ےھاں سب سے زےادہ رشوت سفارش اور بے اےمانی کام آتی ہے وہ آدمی جس کہ پاس سرماےہ ہے اور بڑی سے بڑی سفارش ہوتو نوکری ان کے لئے پھلے ہی مقرر کر دی جاتی ہےں ان مےں قابل؛ےت ہے ےا نھےں ا سبا تسے کئی سروکار نھےں ہوتا اس کے لبعد صرف برائے نام اخبارات اور اشتہارات دےجاتے ہےں۔

نےروزگاری کئی معاشرتی بےماریوں کوجنم دےتی ہےجو لوگ جو حالات سے گھبرائے ہوے اور مھنگائی کے ھاتھوں تنگ آکر گعر قانونی کاموں مےں ملوث ہوجاتے ہےں اس لئے دھشتگردی اور بے راہ روی جنم لےتی ہے شاےد اسلئے کہا جاتا ہے کہ کوئیبھی انسان پےدائیشی مجرم نھےں ہوتا بلکہ حالات اور معاشرہ اس کی افزائش کہ زمےدارہوتے ہےں۔

اگر دےکھا جائے تو بےروزگاری جےسے مسئلے کو ہمارے حکمران سنجےدگی سے لےں تو حل ہسکتا ہے کیونکہ پاکستان کی زمےن بھت ذرخےز ہے اور معدنےات بھی موجود ھے تو با آسانی کہ ساتھ روزگار کہ وسائل پےدا کئے جاسکتے ہےں عام جو ٹےکس دےتی ہے اس مےں سب سے بڑا بجلی پھر گےس اور موبائےل فون کاتو اےک دن کا عربوں رپے ہوجاتا ہے مگر جاتا کہاں ہے ؟ اگر ان ٹےکس کا استعمال سحےح جگہ کےا جائے تو بےروزگاری کو ماضی کاقصہ بننے مےں دےر نھیں لگے گی چلو ٹےکس بھی عوام کے کندھے پہ پر بے وجہ جو بےناالقوامی اپنے خزانے کو وصےع بنانے کہ خاچر قرضے پقرضہ اٹھائے جارھی ہے وہ بھی عام کے کندھوں پر؟

پاکستان کی تارعخ مےں پھلا قرض ۰۵۹۱ مےں لےا گےا تھا جس کا وصول ۸۵۹۱ مےں ہوا مگر اس کہ بعد ےہ سلسلہ جاری ہے اور ےہ صورتحال دےکھ کر بےرونی ممالک نے قرضا دےنا ہی بند کر دےا ۔

ھمارے ملک کو اچھے حکمرانوں کی ضرورت ھے جو ذاتی کاموں کو بعد مےں اور جن کا قسم نامہ اٹھاےا ھے کے ملکی کاموں کو پھلے ترجےع دےں گے۔ ایسا صرف تصور ہی کےا جاسکتا ہے جبکہ حقےقت مےں اس خےال کی تبدےلع بھت دور کی بات ہے۔ ھمارے حکمرانوں کو چاھئے کہ اس پاک سرزمےن کہ خاچر کچھ کرےں اور بےروزگاروں کو پاکستان مےں ہی موجود وسےلات کو استعمال کر کہ روزگار فراھم کےا جا ´ئے تاکہ ان کی دعاﺅںمےں وہ سکون و چےن کی نیند سو سکےں۔


For printing in Rshni we need write-ups in inpage format/ Last para needs more division

ثنا شیخ

رول نمبر:55  
آرٹیکل


بے روزگاری کسی معذوری سے کم نہیں


بے روزگاری تقریبا تمام ممالک کا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ہر معشیت میں کسی نہ کسی طور پر بیروزگاری کے حالات پائے جاتے ہیں ۔ بے روزگاری کے مسئلے میں زیادہ شدید صورت اس وقت اختیار کی جبکہ 1930ءکے عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پوری دنیا اس کا شکار ہو گئی۔ ان دنوں میں صرف امریکہ میں کروڑوں آدمی بے روزگار ہو گئے۔ اسی طرح پوری دنیا غربت اور بے روزگاری کے جال میں پھنس گئی۔ بے روزگاری بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں مثلا بناوٹی بے روزگاری میں اگر ملک میں افرادی قوت کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو اس ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے مطابق سرمائے میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یوں بہت سے افراد بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دوسری موسمی بے روز گاری جو کارخانے موسم کے لحاظ سے چلتے ہیں یعنی برف اور شوگر ملز وغیرہ ان کے افراد بھی بعد میں بے روز گاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جدید تکنیک کی بے روز گاری ہے۔ یعنی بعض اوقات صنعتی ترقی بھی بے روزگاری کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کپڑے کی صنعت میں پاور لومنر کا استعمال شروع ہوا تو دستی کھڈی کے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ۔ یوں موجودہ جدید دور میں آٹومیٹک مشینوں کے استعمال سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بے روز گاری شدید ترین مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جس کی بڑی وجہ وسائل کا غیر پیداواری کاموں میں استعمال ہے۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پاکستان میں کسی چیز کی کمی ہے جو بیروزگاری میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہو رہی ہے۔ قدرت نے ہمیں قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ اب ان کاصحیح استعمال کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ چاہیں تو اپنی زمین سے سونا اگوا سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر پاکستان زرعی ملک ہے۔ مگر افسوس اسی شعبے میں بیس سے پچیس فیصد بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ کیونکہ کم زمین پر زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ یوں بظاہر وہ لوگ کام تو کرتے ہیں مگر بے کار ہوتے ہیں۔ کیونکہ چار ایکڑ زمین پر دو آدمی بھی کام کر سکتے ہیں۔ جہاں چار آدمی مصروف ہیں یوں دو آدمی مخفی بے روز گاری کا شکار ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی جو کاشتکاری میں استعمال ہو رہی ہے۔ مثلا گندم کاٹنے والی مشین وغیرہ جسکی وجہ سے لاکھوں غریب بے روزگاری کا شکار ہوتے ہیں۔ اب ہر عام آدمی بھی بے روز گاری سے وقف ہے فیکٹریوں میں جدید مشینری کے استعمال سے آدمیوں کی ضرورت کم اور مشینری کی زیادہ مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ 

یوں ہنر مند آدمی بھی بے روز گار ی کے چنگل میں پھنس گیا ہے۔ پڑھے لکھے افراد ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے سڑکوں پر خاک چھان رہیں ہیں مگر رشوت دینے کے لیے جیب گرم نہیں، سفارش کے لیے تعلقات نہیں ۔یوں مہنگائی کے دور میں تعلیم اور ہنر کی بھی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔

پرائیویٹ شعبوں میں بھی رشوت پہلے لی جاتی ہے جب جا کر 8000سے10000کی نوکری ہاتھ آتی ہے۔ یہاں بھی تعلیم میں گریڈ دیکھے جاتے ہیں مگر تنخواہ میں 7500سے 8000تک واجبات ادا کرنے کے بعد بچتے ہیںاور یوں ایک انمول نعمت ہاتھ آتی ہے۔ اب یہ 8000میں سے ایک فرد بجلی کا بل 4000اور گیس کا بل 1000روپے ادا کرے تو وہکیسے باقی پورا مہینہ پیٹ کا دوزخ کو بھرے؟ اسکے باوجود اسی پرائیویٹ ادارے میں کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وجہ صرف بے روزگاری ہے اگر وہ یہ بھی چھوڑ دیں تو اس مہنگائی کے دور میں ضروریات زندگی کیسے پوری کریں ۔

اور دوسری طرف سرکاری شعبہ جات، ان شعبوں میں نوکری تو ایک عام آ دمی کے خواب و خیال سے بھی باہر ہے کیوں کہ یہاں سب سے زیادہ رشوت سفارش اور بے ایمانی کام آتی ہے وہ آدمی جس کے پاس سرمایہ ہے اور بڑی سے بڑی سفارش ہوتو نوکری ان کے لیے پہلے ہی مقرر کر دی جاتی ہیںخواہ ان میں قابلیت ہے یا نہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد صرف برائے نام اخبارات اور اشتہارات میں نوکری کے اشتہارات دیے جاتے ہیں ۔ 

بے روز گاری کئی معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔جو لوگ جو حالات سے گھبرائے ہوئے اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے دہشت گردی اور بے راہ روی جنم لیتی ہےں ۔ شایداسلئے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی مجرم نہیں ہوتا بلکہ حالات اور معاشرہ اس کی افزائش کے ذمے دار ہوتے ہیں ۔ 

پاکستان میں بے روزگاری کی بڑی وجہ انتظامیہ کی نا اہلی ہے کیوں کہ جس ملک کی زمین اتنی زرخیز ہو اور معدنیات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قومی آمدنی بھی معقول ہو وہاں روز گار کے مواقع پیدا کرنے کوئی مشکل نہیں ہوتے ضرورت صرف موثر منصوبہ بندی اور منظم طریقہ کار کی ہے۔ قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے یعنی بجلی جس میں تقریبا ایک عرب روپیہ اور موبائل فون کے بیلنس پر ہی صرف ایک دن کا ٹیکس عربوں روپے بن جاتا ہے اسکے علاوہ دیگر شعبوں سے بھی ٹیکس حاصل کئے جاتے ہیں اگر ان کا استعمال صحیح ہو جائے تو اس ملک میں بے روز گاری تو ایک طرف معاشرے میں غربت کا نام بھی غائب ہو جائے۔ لیکن افسوس ہمارے قومی خزانے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ان میں جو بھی ڈالا جائے اضافے کی بجائے کمی ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بین الااقوامی قرضے اٹھائے جاتے ہیں جن کا بوجھ بھی عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ کبھی ٹیکسوں میں اضافہ کر کے تو کبھی مہنگائی کے نام پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ۔ ان تمام خساروں کو پورا کرنے کے لیے ہماری حکومت قرضوں پر انحصار کرتی ہے پاکستان میں پہلی بار قرضہ 1950ءمیں 57ملین ڈالر سالانہ کے حساب سے لیا جبکہ 1958ءکو یہ قرضے حاصل کئے گئے یوں آج تک یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ مگر ہمارے شاندار حکمرانوں کے کارنامے دیکھ کر غیر ممالک نے بھی قرضوں سے انکاری کے لیے ٹھوس وجہ تلاش کر لی ہے۔ یوں آج پاکستان صرف ناکامی اور بے روزگاری کے علاوہ معاشی پسماندگی کا بھی شکار ہے۔ کیا اس ملک میں ایسا ایک بھی شخص نہیں بچا جو فخر سے سر اٹھا کر کہہ سکے ابھی کچھ نہیں بگڑا میں اس ملک کو سنواروں گا؟ کیا کوئی امید کی کرن باقی نہیں؟ ہمارے سارے حکمران صرف تماشا دیکھنے اور اپنے لیے سوچ رکھتے ہیں؟ کوئی شخص بھی نہیں جو اس سر زمین پاک کی خاطر کچھ کرے؟ اگر ہے تو سامنے آئے ملک کو اس وقت بہت ضرورت ہے سچے جذبے، مخلص رویے اور سچی لگن کی ۔جس کا مقصد صرف ملک کی بھلائی اور ترقی ہو اور ملک کو بے روزگاری کے اندھیروں سے نکال کر روزگار کے راہ پر ڈالناہو۔ جو اپنے بارے میں بعد میںسوچے پہلے ملک کے بارے میں سوچے 

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Department of Media and Communication studies University of Sindh, Jamshoro