Showing posts with label واثق. Show all posts
Showing posts with label واثق. Show all posts

Saturday, 27 August 2016

Chunnri of Badin -feature Wasique Memon



                                                بدین کی چنری

             دور قدیم سے دور جدید تک یہ سندھ کی قدیم ثقافت ہے

                                       واثق احمد میمن   رول نمبر 70  ایم اے پریویس

سندھ میں خواتین کے پہناوے چنری کے بغیر مکمل نہیں سمجھے جاتے ۔ اگر چہ ملک میں چنری سندھ کے چند ایک اضلاع میں تیار کی جاتی ہے مگر بدین کو چنری کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ جنوبی ایشیا میں انڈیا چنری کی تیاری میں بڑا مقام رکھتا ہے۔ چنری کو پڑوسی ملک کی تہذٰیب و ثقافت کا بھی ایک حصہ سمجھا جاتا ہے اسی طرح سندھ میں بھی چنری کی تاریخ کا آغاز کچھ بجھ ، کاٹھیاواڑ راجستھان اور سندھ کے موجودہ تھر  کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہے ۔ اور قیام پاکستان کے بعد سندھ کے تھر کے  ان علاقوں سے کاریگروں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی  چنری کی تیاری کا کاروبارجاری رکھا جس نے بڑی مقبولیت حاصل کی ۔ 

بدین میں چنری کی تیاری میں کاریگروں نے بدلتے وقت کے تمام تقاضوں کو بھی مد نظر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چنری کے ڈیزائنوں اور رنگوں میں انفرادیت نے اسے شہری و دیہی علاقوں کے جدید فیشن میں یکسا ں مقبول کیا 
ہے ۔بلکہ بدین کی چنری دنیا بھر میں اس علاقے کی خصوصی پہچان بن گئی ہے ۔
چنری دراصل خواتین کا لباس ہے سندھ میں اکثر خواتین اسے شلوار قمیض کے طور پر استعام کرتی ہیں مگر قمیض کے ساتھ اسے گھاگرے یا شرارے کے طور پر بھی عام استعام کیا جاتا ہے یوں تو یہ لباس تمام قومیتوں کی خواتین میں مقبول ہے مگر اندرون سندھ اور باالخصوص تھر پارکر کی اقلیاتی خواتین چنری سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہیں اور اسے زیب تن کرتے دکھائی دیتی ہیں چنری کی تیاری میں سب سے پہلے سفید 

لٹھے یا ململ کے کپڑے کا عام طور پر استعام کیا جاتا ہے سفید کپڑے کو پہلے پیلے رنگ میں مکمل طور پر رنگا جا تا ہے
کاریگروں کے مطابق چنری میں جو رنگ استعمال کئے جاتے ہیں وہ عام نہیں بلکہ مقصوص قسم کے کیمیکل ہوتے ہیں جو مختلف ممالک سے درآمد کئے جاتے ہیں ان کیمیکل زدا رنگوں کو گرم اور ٹھنڈے پانی میں ملایا جاتا ہے تاہم چنری کے تیاری کے دوران زیادہ تر گرم پانی کا استعمال کیا جاتا ہے سفید کپڑے کو پیلا کرنے کے بعد اس کو مخصوص کیمیکل زدہ رنگوں سے گل کاری کی جاتی ہے اور ڈیزائین کے مطابق لکڑی سے بنے ہوئے ٹھپوں کے ذریعے نقش و نگار چھاپنے کے بعد کپڑے کو جگا جگا سے کچے دھاگے سے گرہیں لگائی جاتی ہے جس کے بعد کپڑا سکڑ جاتا ہے اور اس کپڑے مخصوص طریقے سے لپیٹا جاتا ہے  اور پھر اس لپٹے جانے والے کپڑے کے آدھے حصے پر پلاسٹک باندھ دیا جاتا ہے اور آدھے کھلے ہوئے حصے کو مختلف رنگوں سے گزارا جاتا ہے اور اس کو خشک ہونے کے لیے لٹکا دیا جاتا ہے خشک ہونے بعد کچے دھاگے سے بندھی گرہیں کھولنے سے مختلف رنگ بھی بکھر تے جاتے ہیں اور اسی صورت میں اسے فروخت کرنے کے لئے مارکیٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے ابتدائی طور پر چنری کے ایک سوٹ کا کپڑا ایک رومال کے برابر دکھائی دیتا ہے اس کی گرہیں کھول نے پر یہ کپڑا حیرت انگیز پر کھلتا چلا جاتا ہے ہہی وجہ ہے کہ اس کپڑے کو چنری کہا جاتا ہے کاریگروں کا کہنا ہے کہ وقت کی جدت اور فیشن کی جدید تقاضوں کے مطابق چنری کو ہر دل کش رنگوں کے امتزاج میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ ماضی میں چنری صرف سفید سوتی کپڑے پر تیار کی جاتی تھی مگر اب چار جٹ اور شفون اور لون کے کپڑے پر بھی چنری تیار کی جاتی ہے اور رنگوں کے حسین انتزاج کے سبب چنری کے پہناوے کی مقبولیت بھی دن بدن بڑتی جارہی ہے

سندھ میں چنری کے دو پٹے کو اجر بعد سب سے بڑی تعظیم حاصل ہے اور اکثر سندھ میں مرد مہمانوں کو اجر خواتین کو چنری پیش کر نے کا عام رواج ہے چنری کا شمار سندھ و ھندھ کی قدیم ثقافت میں ہوتا ہے ۔ سندھ کی اس قدیم ثقافت کو بڑی کاروباری شکل دینے میں حکومت کی جانب سے چنری کی تیاری کرنے والے کاریگروں کی سرپرستی یا ان کی مالی معاونت نہ کرنے کی وجہ سے بدین میں لوگوں نے اپنے گھروں میں چنری کی تیاری کے چھوٹے چھوٹے کارخانے قائم کیے ہوئے ہیں جہاں چنری کے چوڑے ہاتھ سے تیار کئے جاتے ہیں 
چنری کی تیاری کی صنعت سے وابستہ کاریگروں کو در پیش مالی مسائل  کےسبب چنری تیاری سے وابستہ کاریگروں کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے چنری کی صنعت سے وابستہ کاریگر رب ڈنو کھٹی اور محمد حسین کھٹی کا کہنا ہے کہ چنری کی تیاری میں آنے والے آخراجات کے مقابلہ میں انہیں جو اجرت  ملتی ہے وہ ناکافی ہے اور تمام تر مہارت اور کاریگری کے باوجود چنری کا زیادہ طر منافہ دکانداروں کو ملتا ہے انہوں نے بتایا کہ انکے پاس وسائل نا ہونے کی وجہ سے وہ چنری کی تیاری کے لیے بڑی مقدار میں کپڑے کی خریداری اور رنگوں کی اور کیمیکل کی درآمد گی نہیں کر سکتے ان کی مالی مجبوری کا تمام تر فائدہ وہ تاجر اٹھا تے ہیں جو چنری کی تیاری میں کپڑا اور چنری کی تیاری میں استعمال ہونے والے  مخصوص رنگ  اور کیمیکل فراہم کرتے ہیں اور ہمیں صرف مضدوری ادا کی جاتی ہے جس سے ہماری ماشی ضروریات پوری نہیں ہوتی اور ہمارے گھروں کے آخراجات پورے نہیں ہوتے ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت چنری کی تیاری کے لیے براہ راست ہمیں قرضوں کی فراہمی اور ملکی و بیرون ملک منڈیوں تک رسائی کی سہولیات فراہم کرے تو نہ صرف دنیا بھر میں چنری کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا جا سکتا ہے بلکہ چنری کی تیاری کو صنعت درجا بھی مل سکتا ہے جس سے ہزاروں گھرانوں کو روزگار کی فراہمی بھی ممکن ہو سکتی ہے  

> واثق احمد میمن بدین

>    رول نمبر 70 
> ایم اے پریویس 
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi  

Sunday, 6 March 2016

میڈیا کی وجہ سے بڑھتی ہوئی احساسی محرومی

Needs improvement, u do not know the role of media

میڈیا کی وجہ سے بڑھتی ہوئی احساسی محرومی 

تحریر: واثق احمد میمن 
پاکستان میں پہلی دفعہ ایک فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں مکمل طور پر نہ فقط اظہار رائے کی کھلی آزادی ملی بلکہ کئی میڈیا کے ادارے و جود میں آئے لیکن ہمارے ملک کے میڈیا جہاں عوام میں سیاسی سماجی اور معاشی مسائیل سمیت دوسرے کئی مسائل اور معاشرتی برائیوں سے عوام کو آگاہی اور شعور پھیلاتا رہا ہے وہاں لوگوں میں صوبوں اور علاقائی تفریق اور احساس محرومی کو بھی جنم دیا ہے پاکستان کی قومی میڈیا کے ادارے قومی دھارے میں کام کرنے کی بجائے خاص طبقاتی اور نسلی بنیا د پر ستی پر کام کرہا ہے جس کی کئی مثالے موجود ہے کراچی جو سندھ کا دارلخلافہ ہے اور صوبوں سے سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے کراچی میں نسلی سیاست کرنے والے گروہوں کی اپنے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر کے شہریوں کو یرغمال بنا کر اپنی نسلی سیاسی طاقت برقرار رکھنے کی سرگرمیوں کے دوران جھگڑوں میں مرنے والوں کو قومی میڈیا میں کئی دنو تک سرخیوں میں اور بریکنگ نیوز میں عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے دوسری طرف اندرون سندھ سے تعلق رکھنے ولا کوئی بھی لیڈر یا کارکن جو صرف صوبے کی سیاست کر تا ہے اور اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کی سیاست کرتے ہوئے ریاستی ادارو ں دہشتگردی کا نشانہ بن جاتا ہے اورپورے صوبے کے کروڑوں عوام بطور احتجاج روڈ پر اپنا سیاسی حق استعمال کرتے ہے ۔ اور سندھ بھر میں بطور احتجاج مکمل طور پر ہڑتال کر تے ہیں یو قومی میڈیا اس پورے واقعہ یا احتجاج کی خبر کوئی اہمیت نہیں دیتا قومی میڈیا کی ایسی دو طرفہ اور امتیازی رویہ سے بھی ملک میں صوبائیت مذہب پرستی اور احساس محرومی کو تقویت ملتی ہے ملک کی تیل اور گیس سمیت قدرتی وسائل کی 70%فیصد ملکی پیداوار صوبہ سندھ سے ملتی ہے جو پیدا وار سندھ کے اندورن علاقوں سے حاصل ہوتی ہے لیکن ان قدرتی وسائیلوں سے ملکی و غیر ملکی اداروں کی ہونے والی معاشی فوائدو سے سندھ کے مزکورہ پیداواری علاقوں کو مکمل طور پر نظر اندار کر کے صرف شہری علاقوں کاور دوسرے صوبوں کو فوائد پہنچائے جا رہے ہے جب کہ قدرتی و سائیلوں کی تلاش اور معاہدات میں صاف لکھا ہے ان علاقوں سے ملنے والی پیداور مد میں ہونے والی آمدنی کا ایک چوتھائی حصہ ان پیدواری علاقوں پر خرچ کر نا ہے اور ان علاقوں کی سماجی زندگی میں ترقی لازم ہے روزگار کے مواقع ان علاقوں کے سیاسی سماجی اور سول سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ ان معاہدات پر عمل درآمد کے لئے آواز بلند کرتے رہے ہیں لیکن سندھ کے اس اہم معاشی مسئلے پر قومی میڈیا اپنی تعصب پرستانہ پالیسی اور رویہ کی بنیاد پر عمل پیرا ہوتے کبھی بھی اپنے نشری خبروں اور مذاکراتی پروگرام ز میں جگہ نہیں دیتی میڈیا سندھ کے اس اہم معاشی مسئلے کو صابائیت کی ہوا دے کر ملک کے لوگوں میں تفریق اور احساس محرومی پیدا کر رہا ہے ۔ پاکستان کی قومی میڈیا کی امتتازی پالیسی اور رویہ کی وجہ سے جہوں عام لوگوں میں احساس محرومی پائی جاتی وہاں عام لوگوں کے روز مرہ کے مسائل اور ملکی معاشی مسائیلوں میں بھی اضافہ ہورہاں ہے ہمارا ملک ایک ذرعی ملک ہے اور ملک زراعت کی پیدا وار میں کسان کا اہم کردار ہے جسکو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ملک کے اکثریتی دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کو درپیش مسائل جس میں خاص طور پر زراعت کی کاشکاری میں حائل مسائل کا سا منا ہے ۔ جس میں پانی کی شدید قلت اور خاد بیج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زرعی فصلوں کی مارکیٹوں میں قیمتوں میں انتہائی کمی جیسے مسائل پر میڈیا کی جانب سے کوئی توجہ نہ دینے کے باعث ملک کی ایک بہت بڑی آبادی اہم معاشی مسائلوں میں جگڑی ہوئی ہے اور احساس مھرومی میں مبتلا ہے اس طرح ملک بھی میں بڑھتے ہوئے جرائم کی نشاندہی میں بھی ملک کے اندرونے علاقوں کو مسلسل نظر انداز کر کے شہری اور مخصوص طبقے کے ساتھ پیش آنے والے جرائم کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے اکثریتی دیہی علاقوں میں جرائم اور قبائیلی مسائل پر شکار ہونے والے عام لوگوں کو پولیس اور روایتی وڈیرہ شاہی اور سیاسی لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے ۔ جہاں پر اس کے ذمہ دار ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمران ہے وہاں پہ کسی حد تک ہمارے 
میڈیا پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
Name: wasique Memon ( MA Previous) 
Roll: NO: 2k 16 MMC 70 

Saturday, 13 February 2016

Interview with Dr Haroon Memon by Wasique Memon

Revised
Interview with Dr Haroon Memon by Wasique Memon
It is bit long. Composing mistakes as u used ے instead of ی 

when it is converted  for web site this mistake appears. U can see on web site it is not readable. 
       ڈاکٹر محمد ہارون میمن سے انٹرویو    

     انٹرویو : واثق احمد میمن
 ایم اے(previous) رول نمبر 70 
 پروفائل
 ڈاکٹر محمد ھارون میمن 1962 ءمیں بدین شہر میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول بدین اور گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری سائنس کالج بدین سے انٹر کرنے کے بعد لےاقت ےونےورسٹی آف مےڈےکل اےنڈ ہےلتھ سائنس جامشورو سے1988ءمےں اےم بی بی اےس کیڈگری حاصل کرنے کے بعد4 199 ءمےں ڈی سی پی (DCP)کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بحےثےت سینئر پیتھالاجسٹ سول ہسپتال بدین میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہےں شروع سے ہی عوامی خدمت کا جذبہ آپ کے اندر موجود تھا جسے بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں تےزی سے پھلنے والی جان لےوا بےماری تھےلےسمےا کی روک تھام کے لئے آپ کی کوششوں سے 20 جون 2005ءمیں تھےلےسما کےئر سےنٹر بدین کا اپنی مدد آپ کے تحت بنےاد رکھا تھےلےسمےا کےئر سےنٹر بدین کا شمار ملک بھر مےں قائم 7 بڑے سےنٹروں مےں ہوتا ہے اس سےنٹرکی عمارت کا بنےاد 20 جون 2005 کورکھا گےا جس کاافتتاح اس وقت کے امرےکی اےمبےسڈر Mr Ryan c.crocker نے کےا سےنٹر کے بانی ڈاکٹر محمد ھارون مےمن سے تھےلےسمیا کے علاج اور کی روک تھام کے حوالے سے ہونے والی گفتگو قارئےن کے لئے پےش خدمت ہے

سوال: آپ کو تھےلےسمےا کی روک تھام کے لئے ےہ سےنٹر قائم کرنے کا خےال کےو آےا؟
جواب: مےں جب سول اسپتال بدین مےں بطورسےنئر پتھالوجسٹ مقرر ہوا تو مےرے پاس آنے والے خاص طور پر بچے اسی بےماری مےں مبتلا ہوتے تھے جن کا مستقل طور پر علاج ہونے اور اس بےماری کو روکنے کے لےئے حکومتی سطح پر کوئی بھی بندوبست نہےں تھا اور اس کا علاج اور ٹےسٹوں پر بھاری خرچہ ہونے کی وجہ سے مرےضوں کی اکثرےت وہ خرچہ برداشت نہےں کرسکتے تھے جو کے زےادہ تر بچوں کی اموات سبب تھا مےں نے اپنے چند مخےر دوستوں کی مدد سے اس بےماری مےں مبتلا غرےب مرےضوں اور بچوں کو مطلوب طبی مدد فراہم کرنے اور اس بےماری کی روک تھام کے لےئے یہ ادارہ قائم کےا۔

سوال:اتنے بڑے ادارے کو چلانے کے لےئے اخراجات کا بندوبست کےسے کرتے ہےں؟
جواب: اس ادارے کو چلانے کے لےئے ہم نے سوسائٹی فار کےئر آف تھےلےسمےا پےشنٹ(society for care of thalessmeamia patients ) بدےن قائم کی اس مےں مقامی طور پر مخےر حضرات کو اس سوسائٹی مےں شامل کےا گےا ان کی مالی مدد سے ادارے کے اخراجات چلائے جاتے تھے اور پھر ہمارے اس سےنٹر سے سندھ کے 8 اضلاع کے مرےض اور بچے مستفےد ہونے لگے اور کچھ با اثر اور صاحب حےثےت لوگوں کے بچے جو اس بےماری مےں مبتلا تھے ان کو بھی ہمارے اس ادارے سے proper treatment ملنی شروع ہوئی جس مےں اس وقت کے بدین کے ضلع ناضم کی بچی بھی شامل تھی اور اس ضلع ناضم نے پہلی مرتبہ ضلع حکومت بدین کی جانب سے 2 کروڑ روپے سالانہ بجٹ اس ادارے کے لےئے مختص کی جو کہ اب سندھ حکومت کی جانب سے ملتی ہے ۔

سوال: تھےلےسمےا کےا ہے؟
جواب:تھےلےسمےا اےک موروثی بےماری ہے جو کہ والدےن سے بچو مےں منتقل ہوتی ہے تھلےسمےا خون کی اےک ایسی بےماری ہے جو نسل در نسل بچو مےں منتقل ہوتی ہے ۔

سوال:تھلےسمےا بڑھنے کے اسباب کےا ہے ؟
جواب: ہمارے ملک مےں نا خوانگی اور لا علمی ،عدم توجگی اس بےماری کا پھےلنے کا سبب ہے تھےلےسےمےا مےں مبتلا مرےضوں کی اکثرےت کا تعلق پسماندہ علاقوں اور دےہاتوں سے ہے جہا پر بےمارےوںکو جانچنے کے لئے اور علاج کی سہولےات موجود نہےں ہوتی ہے اور خاص طور پر خاندان کے اندر شادےاں اور شادی سے پہلے مرد اور عورت کی خون کا ٹےسٹ نہ کرانا۔

سوال: تھےلےسمےا سے بچنے کے لےئے کون سی تدابےر کرنی چاہئے؟
جواب: سب سے اہم تدابےر ےہ ہے کہ شادی سے پہلے مرد اور عورت کی خون کا ٹےسٹ کرانا چاہئے اور اےسے مرد اور عورت کو آپس مےں شادی نہےں کرنی چاہئے جن مےں تھےلےسےمےا مائنر کے اثرات موجود ہوشادی شدہ جوڑو کو پہلے حمل کے ساتھ خون کی ٹےسٹ کرانا ضروری ہے مرد اور عورت دونو مےںتھےلےسمےا ماہنر کے اثرات موجود ہے تو حاملا عورت کو سی وی اےس (chorionic villus sampling) ٹےسٹ کرانی چاہئے اس ٹےسٹ مےں ےہ پتہ چلے گا کے بچے کو تھےلےسمےا مےجر ہے ےہ نہےں اگر ہے تو اس حمل کو ضائع کرالےنا چاہئے۔

 سوال : آپ کا ادارہ تھیلسمیا کی بیماری کی روک تھام اور اس مرض میںمبتلا مریضوں کے علاج کے لیئے کیا اقدامات کر رہا ہے ؟
جواب: ہمارے ادارے مےں تھےلےسمےا کے 570 تھےلےسمےا مےجر کے پےشنٹ رجسٹرہےں جن کو time to time خون دےا جاتا ہے اور ان کی ٹےسٹے کرائی جاتی ہے اور ان کو دوائےاں بھی مفت فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ کمےونٹی بےس پر سےمےنار ورکشاپس کا انعقاد کر کے gross root لےول پر لوگوں کو خاص طور پر عورتوں اور والدےن کو اس مہلک بےماری کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے اور موبائےل کےمپس لگا کر شادی شدہ اور غےر شادی شدہ جوڑو اور بچو کی مفت مےں ٹےسٹے کی جاتی ہے ۔

سوال:آپ نے تھیلسمیاکی روک تھام اور اس بےماری مےں مبتلا بچوں کی جا نیں بچانے مےںکس حد تک کامےابی حاصل کی ہے؟
جواب: ہم نے اب تک 182 خاندانوں کو تھیلسمیا بےماری سے مکمل طور پر نجات دلا کر سینکڑوں لو گو ں کی جانیں ضائع ہو نے سے بچائی ہیں جو کہ ہمارے ادارے کی بہت بڑی کامےابی ہے اس کے علاوہ تھےلسمیاکےئر سےنٹر بدین ملک کا واحد سےنٹر ہے جہا پر homoglobin electrophoresis اور chorionic villus sampling ٹےسٹےں فری آف کاسٹ کی جاتی ہے جبکہ مذکورہ ٹےسٹےںملک کی مخصوص بڑی اور نامور اسپتالوں اور لےبارٹرےوں مےں 12000 سے 30000 روپے مےںکی جاتی ہے لیکن اس وقت ہما را ادارانتہا ئی ما لی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے کا کر نے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ 

سوال:آپ نے بتایا کہ پہلے سندھ کے 8 اضلاع کے مریضوں کا علاج کیا جا تا تھا اور بچو ں کو خون دیا جا تا تھا اب کیا وجہ ہے کے اس سینٹر کو آپ نے بدین کی حد تک محدود کر دیا ہے ؟
جواب:ہمارے یہاںتھیلسمیا میں مبتلا بچو ں کو صرف خون نہیں دیا جا تا ہے بلکہ ایسے بھی بچے ہیں جن کو سینٹر میں دا خل کرنا پڑ تا ہے ان بچو ں کو خون کے علاوہ ان کی وقت بہ وقت ٹیسٹیں کی جا تی ہیں ضرورت پڑنے پر ان بچو ں کی کراچی سے بھی ٹیسٹیں کرائی جا تی ہیں جن پر اخراجات زیا دہ ہو تے ہیں اور بچو ں کے ساتھ ان کے وا لدین کی بھی وقت بہ وقت ٹیسٹیں وغیرہ کرائی جا تی ہیں اور دوائیاں بھی مہیا کی جا تی ہیں اس بیما ری کا علاج مہنگا ہو نے کے ساتھ سینٹر میں کا م کرنے والے ملا زمین کی تنخواہیں اور انتہا ئی جدید اور قیمتی آلات، لیبارٹری، بلڈنگ کی مینٹینس وغیرہ اور بچو ں کے لیئے خون جمع کرنے کے لیئے کئمپس لگا نے کے ساتھ کمیو نٹیز میں جاکر لو گو ں کو آگا ہی دینے وغیرہ میں اخراجات ہو تے ہیں ا س وقت حکومت سندھ ک جانب سے 2 کروڑ روپے سالانہ بجٹ دی جا تی ہے ایک تو وہ نا کافی ہے اور بجٹ جاری کرنے میں افسر شا ہی کی جانب سے روڑے اٹکائے جا تے ہیں وہ نتہا ئی تکلیف دہ ہو تا ہے کم سے کم سالنہ بجٹ 5 کروڑ روپے ہو نی چا ہیئے اور اگر سندھ اور وفاقی حکومت اور مخیر حضرات اس سینٹر کی با قا ئدہ ما لی معاونت کریں اور سول سو سا ئٹی کی تنظیمیں خون کے عطیہ میں معا ونت کریں تو یہ سینٹر ملک کے ساتو ں سینٹروں سے زیا دہ رزلٹ دے سکتا ہے اس سینٹر سے نہ صرف بدین ضلع بلکہ ملک بھر کے اضلاع کے تھیلسمیا کے مریض اور بچے استفادہ ہو سکتے ہیں کیو ں کے بدین کے اس سنیٹر میں تھیلسمیا کی روک تھام اور علاج کے اور تھیلسمیا بیماری کی تشخیص کے لیئے مطلوبہ جدید آلات،لیبا رٹریر، وغرہ موجود ہے

     انٹر ویو : واثق احمد میمن
 ایم اے(previous) رول نمبر 70 

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Department of Media and Communication studies University of Sindh, Jamshoro