Saturday, 27 August 2016

Chunnri of Badin -feature Wasique Memon



                                                بدین کی چنری

             دور قدیم سے دور جدید تک یہ سندھ کی قدیم ثقافت ہے

                                       واثق احمد میمن   رول نمبر 70  ایم اے پریویس

سندھ میں خواتین کے پہناوے چنری کے بغیر مکمل نہیں سمجھے جاتے ۔ اگر چہ ملک میں چنری سندھ کے چند ایک اضلاع میں تیار کی جاتی ہے مگر بدین کو چنری کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ جنوبی ایشیا میں انڈیا چنری کی تیاری میں بڑا مقام رکھتا ہے۔ چنری کو پڑوسی ملک کی تہذٰیب و ثقافت کا بھی ایک حصہ سمجھا جاتا ہے اسی طرح سندھ میں بھی چنری کی تاریخ کا آغاز کچھ بجھ ، کاٹھیاواڑ راجستھان اور سندھ کے موجودہ تھر  کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہے ۔ اور قیام پاکستان کے بعد سندھ کے تھر کے  ان علاقوں سے کاریگروں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی  چنری کی تیاری کا کاروبارجاری رکھا جس نے بڑی مقبولیت حاصل کی ۔ 

بدین میں چنری کی تیاری میں کاریگروں نے بدلتے وقت کے تمام تقاضوں کو بھی مد نظر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چنری کے ڈیزائنوں اور رنگوں میں انفرادیت نے اسے شہری و دیہی علاقوں کے جدید فیشن میں یکسا ں مقبول کیا 
ہے ۔بلکہ بدین کی چنری دنیا بھر میں اس علاقے کی خصوصی پہچان بن گئی ہے ۔
چنری دراصل خواتین کا لباس ہے سندھ میں اکثر خواتین اسے شلوار قمیض کے طور پر استعام کرتی ہیں مگر قمیض کے ساتھ اسے گھاگرے یا شرارے کے طور پر بھی عام استعام کیا جاتا ہے یوں تو یہ لباس تمام قومیتوں کی خواتین میں مقبول ہے مگر اندرون سندھ اور باالخصوص تھر پارکر کی اقلیاتی خواتین چنری سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہیں اور اسے زیب تن کرتے دکھائی دیتی ہیں چنری کی تیاری میں سب سے پہلے سفید 

لٹھے یا ململ کے کپڑے کا عام طور پر استعام کیا جاتا ہے سفید کپڑے کو پہلے پیلے رنگ میں مکمل طور پر رنگا جا تا ہے
کاریگروں کے مطابق چنری میں جو رنگ استعمال کئے جاتے ہیں وہ عام نہیں بلکہ مقصوص قسم کے کیمیکل ہوتے ہیں جو مختلف ممالک سے درآمد کئے جاتے ہیں ان کیمیکل زدا رنگوں کو گرم اور ٹھنڈے پانی میں ملایا جاتا ہے تاہم چنری کے تیاری کے دوران زیادہ تر گرم پانی کا استعمال کیا جاتا ہے سفید کپڑے کو پیلا کرنے کے بعد اس کو مخصوص کیمیکل زدہ رنگوں سے گل کاری کی جاتی ہے اور ڈیزائین کے مطابق لکڑی سے بنے ہوئے ٹھپوں کے ذریعے نقش و نگار چھاپنے کے بعد کپڑے کو جگا جگا سے کچے دھاگے سے گرہیں لگائی جاتی ہے جس کے بعد کپڑا سکڑ جاتا ہے اور اس کپڑے مخصوص طریقے سے لپیٹا جاتا ہے  اور پھر اس لپٹے جانے والے کپڑے کے آدھے حصے پر پلاسٹک باندھ دیا جاتا ہے اور آدھے کھلے ہوئے حصے کو مختلف رنگوں سے گزارا جاتا ہے اور اس کو خشک ہونے کے لیے لٹکا دیا جاتا ہے خشک ہونے بعد کچے دھاگے سے بندھی گرہیں کھولنے سے مختلف رنگ بھی بکھر تے جاتے ہیں اور اسی صورت میں اسے فروخت کرنے کے لئے مارکیٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے ابتدائی طور پر چنری کے ایک سوٹ کا کپڑا ایک رومال کے برابر دکھائی دیتا ہے اس کی گرہیں کھول نے پر یہ کپڑا حیرت انگیز پر کھلتا چلا جاتا ہے ہہی وجہ ہے کہ اس کپڑے کو چنری کہا جاتا ہے کاریگروں کا کہنا ہے کہ وقت کی جدت اور فیشن کی جدید تقاضوں کے مطابق چنری کو ہر دل کش رنگوں کے امتزاج میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ ماضی میں چنری صرف سفید سوتی کپڑے پر تیار کی جاتی تھی مگر اب چار جٹ اور شفون اور لون کے کپڑے پر بھی چنری تیار کی جاتی ہے اور رنگوں کے حسین انتزاج کے سبب چنری کے پہناوے کی مقبولیت بھی دن بدن بڑتی جارہی ہے

سندھ میں چنری کے دو پٹے کو اجر بعد سب سے بڑی تعظیم حاصل ہے اور اکثر سندھ میں مرد مہمانوں کو اجر خواتین کو چنری پیش کر نے کا عام رواج ہے چنری کا شمار سندھ و ھندھ کی قدیم ثقافت میں ہوتا ہے ۔ سندھ کی اس قدیم ثقافت کو بڑی کاروباری شکل دینے میں حکومت کی جانب سے چنری کی تیاری کرنے والے کاریگروں کی سرپرستی یا ان کی مالی معاونت نہ کرنے کی وجہ سے بدین میں لوگوں نے اپنے گھروں میں چنری کی تیاری کے چھوٹے چھوٹے کارخانے قائم کیے ہوئے ہیں جہاں چنری کے چوڑے ہاتھ سے تیار کئے جاتے ہیں 
چنری کی تیاری کی صنعت سے وابستہ کاریگروں کو در پیش مالی مسائل  کےسبب چنری تیاری سے وابستہ کاریگروں کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے چنری کی صنعت سے وابستہ کاریگر رب ڈنو کھٹی اور محمد حسین کھٹی کا کہنا ہے کہ چنری کی تیاری میں آنے والے آخراجات کے مقابلہ میں انہیں جو اجرت  ملتی ہے وہ ناکافی ہے اور تمام تر مہارت اور کاریگری کے باوجود چنری کا زیادہ طر منافہ دکانداروں کو ملتا ہے انہوں نے بتایا کہ انکے پاس وسائل نا ہونے کی وجہ سے وہ چنری کی تیاری کے لیے بڑی مقدار میں کپڑے کی خریداری اور رنگوں کی اور کیمیکل کی درآمد گی نہیں کر سکتے ان کی مالی مجبوری کا تمام تر فائدہ وہ تاجر اٹھا تے ہیں جو چنری کی تیاری میں کپڑا اور چنری کی تیاری میں استعمال ہونے والے  مخصوص رنگ  اور کیمیکل فراہم کرتے ہیں اور ہمیں صرف مضدوری ادا کی جاتی ہے جس سے ہماری ماشی ضروریات پوری نہیں ہوتی اور ہمارے گھروں کے آخراجات پورے نہیں ہوتے ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت چنری کی تیاری کے لیے براہ راست ہمیں قرضوں کی فراہمی اور ملکی و بیرون ملک منڈیوں تک رسائی کی سہولیات فراہم کرے تو نہ صرف دنیا بھر میں چنری کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا جا سکتا ہے بلکہ چنری کی تیاری کو صنعت درجا بھی مل سکتا ہے جس سے ہزاروں گھرانوں کو روزگار کی فراہمی بھی ممکن ہو سکتی ہے  

> واثق احمد میمن بدین

>    رول نمبر 70 
> ایم اے پریویس 
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi  

Monday, 6 June 2016

پروفائل عاصمہ ذوالفقار Aasma Zulfiqar Profile

پروفائل عاصمہ ذوالفقار

 تحقیق و تحریر : مہناز صابر
Profile of Aasma Zulfiqar by Mehnaz Sabir
MMC/2K16/36 (Previous)

کسی ہجوم پر آپ کی نظر کسی ایک شخصیت پر ٹہر جائے ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن ایسا ناممکن بھی نہیں۔ میرے ساتھ ایسا تب ہوا جب میری نظر ایک اوسط قد کی لڑکی پر جا کر رک گئی۔ وہ مجھے کچھ جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔ لال رنگ کے انارکلی سوٹ میں اپنے دوٹے کو سنبھالتے ہوئے وہ میری ہی جانب چلی آرہی تھی۔ میری اب خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میں اب انہیں پہچان چکی تھی۔ وہ عاصمہ ذوالفقار علی ہی تھی۔ سر سہیل سانگی کی چہیتی اسٹوڈنٹس میں سے ایک۔ 
اکثر سر سہیل سے ان کی ذہانت کے قصے سنتی رہتی تھی۔ اور یہ بھی جانتی تھی کہ کچھ عرصے تک وہ حیدرآباد میں ایکسپریس نیوز چینل پر بطور رپورٹر اور سب ایڈیٹر خوب نبھا چکی تھی۔ 

 میں نے اپنے آپ میں کچھ ہمت پیدا کی۔ اور ان سے جا کر ملاقات کی۔ پہلے مجھے یوں دیکھ کر کچھ حیران اور تھوڑی سی پریشان ہوئی،کہ آکر میں ان کو کیسے جانتی ہوں؟ پھر جب میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی آپ ہی کی طرح سر سہیل کی اسٹوڈنٹ ہوں، تو ان کے چہرے پر خوشگوار تاثرات نمودار ہو گئے۔ اور پھر ہم لوگ کافی دیر تک یونیورسٹی، جاب، اور کچھ سر سہیل کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ اس دوران مجھے ان کے بارے میں کافی کچھ جاننے کا موقعہ ملا۔ 

 عاصمہ ذوالفقار علی آٹھ اگست 1985 میں پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کے خاندان کا تعلق انڈیا کے شہر اجمیر شریف سے تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ سر سہیل انہیں پیار سے اجمیری کہہ کر بلاتے تھے۔

 عاصمہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی ہیں۔ ان سے بڑی ان کی تین بہنیں ان پر جان چھڑکتی ہیں۔ جبکہ امی ابو کا ان کے بنا دل ہی نہیں لگتا۔

 انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شاہ لطیف اسکول سے شروع کی اور وہیں سے انٹر کیا۔
 اور پھر سندھ یونیورسٹی میں ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔ 

یونیورسٹی کے دور میں وہ نہ صرف اپنے گروپ میں ذہین سمجھی جاتی تھیں بلکہ پورے کلاس میں ان سے زیادہ ذہین کوئی اور اسٹوڈنٹ نہیں تھا۔ اس لئے وہ گھر کے علاوہ اپنے دوستوں اور تیچرز کی بھی فیوریٹ اسٹوڈنٹ تھیں۔ 

ان کی زندگی کا یادگار دن وہ تھا جب انہوں نے ماس کہمیونیکیشن میں فرسٹ پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل جیتا ۔ 


-------  -----------                     ---------------           --------  ----------

Too many composing mistakes. particularly of ے and  ی
This is one side view, how u observed her and how people know her, comments from her friends  colleagues  are must. 
 Intro is too traditional
photo is also required for interview, profile and feature

پروفائل عاصمہ ذوالفقار 

 تحقیق و تحریر : مہناز صابر

MMC/2K16/36 (Previous)

ہمارے ملک پاکستان مےں بہت با ہمت اور پڑھے لکھے لوگ موجود ہےں لےکن انکو آگے بڑھنے نہےں دےا جاتا کہ وہ کسی اچھی جوب پر فائز ہوکر ملک و قوم کی خدمت کر سکےں عاصمہ ذولفقار علی بھی اےک بہت قابل اور باہمت شخصےت کی مالک ہےں۔
عاصمہ ذوالفقار علی اجمےری سے مےری ملاقات اےک شادی مےں ہوئی مےں نے انھےں دےکھتے ہی پہچان لےا کہ ےہ تو اےکسپرےس نےوز کی نمائندہ ہےں مےں انسے جاکر ملی تو گفتگو کے دوران مجھے ےہ اندازہ ہوا کہ عاصمہ تو بہت اچھی شخصےت کی مالک ہےںاور بہت باہمت لڑکی ہےں مےں نے ان سے انکا اےڈرےس لےا اور پھر ان سے تفصےلی ملاقات کی ۔
عاصمہ ذالفقار علی اجمےری 8اگست 1985مےں حےدرآباد مےں پےدا ہوئےں انکے خاندان کا تعلق انڈےا اجمےر شرےف سے ہے قےام پاکستان کے وقت انکا خاندان انڈےا سے ہجرت کر کے پاکستان آےا ۔ ان کے والد جاب کے سلسلے مےں 30سال سعودی عرب مےں رہے عاصمہ کا کوئی بھائی نہےں ہے وہ صرف چار بہنےں ہےں اور عاصمہ سب سے چھوٹی ہےں انھوں سے ابتدائی تعلےم لطےف نےازی اسکول سے حاصل کی شاہ لطےف کالج سے انٹر کےا اور پھر سندھ ےونےورسٹی سے ماس کمےو نےکےشن ڈےپارٹمنٹ سے ماسٹرس کےا جب سے اےڈمےشن ہوا عاصمہ پوزےشن ہولڈر رہےں ۔ اسکول مےں بھی اور ےونےورسٹی مےں بھی ۔ جب انکا اےڈمےشن ماس کمےو نےکےشن ڈےپارٹمنٹ ہوا اسکے بارے مےں انہےں کچھ بھی پتا نہےںتھا انکو الف ب بھی نہےں آئی تھی نہ ہی خبروں مےں دلچسپی تھی انھےں اس مضمون مےں کوئی دلچسپی نہےں تھی لےکن اسکے باوجود پہلے سال ہی کلاس مےں پوزےشن آئی اور باقی کے تےن سال پورے ڈےپارٹمنٹ مےں پوزےشن لی اور مےڈل بھی حاصل کےا ۔
پوزےشن لےنے کی وجہ ےہ تھی کہ وہ صبح فجر مےں اٹھتی تھےں اور مسلسل پڑھتی تھےں اور رات 12بجے تک پڑھتی تھےں سارے مضامےن مےں 80مےں مارکس آئے تھے ۔
انھےں سہےلےاں بھی بہت اچھی ملےں ےونےورسٹی مےں انکی تےن سہےلےاں اور تےنوں بہت اچھی ہےں ۔
عاصمہ بہت زےادہ مددگار طبےعت کی مالک ہےں دوسروں کا درد اپنا درد سمجھتی ہےں ہر کسی کی مدد کرنے کےلئے تےار رہتی ہےںبہت مہمان نواز ہےں خاندان سے زےادہ دوستوں سے ملنا پسند ہے دوستوں کو زےادہ ترجےح دےتی ہےں۔ کھانا بھی بہت اچھا بناتی ہےں اور کھانے مےں برےانی اور کباب شوق سے کھاتی ہےں ۔
شاعری، مصوری اور کتابےں پرھنے کا شوق ہے اور کرکٹ دےکھنے کی حد تک پسند ہے انکے والد تو 30سال سے بےرون ملک تھے لےکن ہےاں پر انکے ٹےچر سہےل سانگی نے والد کی طرح بہت ساتھ دےا ہر جگہ مدد کی جاب کے سلسلے مےں بھی گائےڈکےا جب بھی کہےں نئی جاب کی آفر ہوتی ہے تو وہ اپنے ٹےچر سہےل سنگی سے مشورہ کرتی ہےں اس فےلڈ مےں آگے آنے مےں انکے ٹےچر سہےل سانگی انکی بہن اور دوستوںکا بہت ہاتھ ہے ۔
اردو، انگلش اور سندھی تےنوں زبانوں پر عبور حاصل ہے اور تےنوں زبانوں مےں انھوں نے آرٹےکل لکھے ہےں مگر مخلتف مےگزےنوں، اخباروں اور رسالوں مےں ےونےورسٹی مےں شعور مےگزےن اور روشنی اخبار مےں انگرےزی بھی اےڈےٹر رہی ہےں۔
اے -آر-وائی نےوز چےنل اور اے -آر-وائی ڈےجےٹل پارٹنر شپ کی انفارمےشن ڈےپارٹمنٹ شہباز بلڈنگ مےںایک سال نےشنل پارٹنر شپ اردو اور انگلش دونوں زبانوں مےں نےوز بنائےں تھےں۔
گورنمنٹ جاب کےلئے بےشمار ٹےسٹ دےئے اور سارے ٹےسٹ پاس کئے لےکن انڑوےو پاس نہےں کر سکےں کےونکہ انٹروےو مےں سفارشی لوگ کامےاب ہوتے ہےں انھوں نے بہت زےادہ جدوجہد کی ہے کراچی مےں بہت زےادہ دکھے کھائے ہےں انڑن شپ اور جا ب ڈھونڈنے کےلئے ۔2013انفارمےشن ڈےپارٹمنٹ نے انٹروےو کی کال کی تھی اس مےں سے لاتعداد لوگوں مےں سے ٹاپ 5نے عاصمہ کا نام آےا آفر لےٹر بھی آگےا تھا مےڈےکل بھی بنوا لےا تھا لےکن پھر سفارشی بندہ آگےا اور جاب اسکو مل گئی ۔
ڈےفےنس منسٹری کی جاب آئی تھی ٹےسٹ دےنے والوں کی تعداد 250تھی ان مےں سے صرف 6پاس ہوئے ان مےں بھی عاصمہ کا نام تھا لےکن یہاں پر بھی انٹروےو کے دوران انھےں بہت ساری باتےں سنے کو ملیں کہ سندھ ےونےورسٹی سے پوزےشن لے ہے تو کوئی تےر نہےں مارا اور کہا کہ اپنی ڈگری کو فرےم کروا کر گھر کی دےوار پرلگالےں ےہ سب سن کر انھےں بہت دکھ ہوا کہ پڑھے لکھے لوگ کےسی باتےں کر رہے ہےں ےعنی کراچی والوں کی نظر مےں سندھ ےونےورسٹی کی کوئی اہمےت ہی نہےں ہے لےکن عاصمہ نے ہمت نہےں ہاری اور فی الحال عاصمہ اےکسپرےس نےوز مےں سب اےڈےٹر کی جاب کر رہی ہےں الےکڑونک اور پرنٹ مےڈےا دونوں مےں کام کرتی ہےں ٹی وی مےں رپورٹنگ بھی کی ہے پیکیجز بھی بنائے ہےں T-20رپورٹنگ کے سارے کام کئے ہےں ۔
چنری کس طرح بنتی ہے اس پر اےک ڈا کےونمنڑی فلم بھی بنائی عاصمہ نے اسٹےڈی کےلئے بہت محنت کی لےکن انھےں اپنی ہمت کا صلہ نہےں ملا لےکن اس باہمت لڑکی نے ہمت نہےں ہاری اور ابھی تک اپنے مقصد کو حاصل کر نے کےلئے جدوجہد کر رہی ہےں۔
عاصمہ کا خواب ہے کہ کوئی اچھی سی گورنمنٹ جاب مل جائے اگر جاب نہےں ملتی ہے تو پھر اسی فےلڈ مےں آگے جانا چاہےں گی ۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Thursday, 2 June 2016

Attendance Semester: 1st 2016



Attendance Semester: 1st - 2016
 
Class: M A (Previous)
 
Course: All courses taught in the selected class.
 
Class Count: 141 (Aggregate for all courses.)
 
Student Name Percentage
2016/MA-MMCS/001 - Aakash - Junejo 0%
2016/MA-MMCS/002 - Abdul Ghaffar Wadho 82%
2016/MA-MMCS/003 - Abdul Razzaque Kumbhar 84%
2016/MA-MMCS/004 - Abdul Sattar Lakho 88%
2016/MA-MMCS/005 - Aftab Ahmed Chandio 27%
2016/MA-MMCS/006 - Aftab Gul Kaleri Baloch 47%
2016/MA-MMCS/007 - Ahsan Shakeel Qaimkhani 82%
2016/MA-MMCS/008 - Aijaz Ali Bhatti 96%
2016/MA-MMCS/009 - Aijaz Gul Lakhan 74%
2016/MA-MMCS/010 - Akash - Meghwar 67%
2016/MA-MMCS/011 - Ali Raza Soomro 38%
2016/MA-MMCS/012 - Ali Raza Rajper 87%
2016/MA-MMCS/013 - Aqsa Sharif Qureshi 62%
2016/MA-MMCS/014 - Ayaz Ahmed Nizamani 81%
2016/MA-MMCS/015 - Aziz Ahmed Mitho Sarwan 11%
2016/MA-MMCS/016 - Baby Fatima Rajput 39%
2016/MA-MMCS/017 - Balach - Rind 9%
2016/MA-MMCS/018 - Danish Niaz Laghari 35%
2016/MA-MMCS/019 - Dure Shahwar Mirza 72%
2016/MA-MMCS/020 - Faheem Ahmed Memon 99%
2016/MA-MMCS/021 - Fareena Aslam Khanzada 53%
2016/MA-MMCS/022 - Farhan Ahmed Dars 43%
2016/MA-MMCS/023 - Fariya Masroor Syed 58%
2016/MA-MMCS/024 - Ghansham Das Meghwar 0%
2016/MA-MMCS/025 - Ghulam Mahdi Shah Syed 82%
2016/MA-MMCS/026 - Hassan Abbas Ansari 38%
2016/MA-MMCS/027 - Hoor Ul Ain Pathan 49%
2016/MA-MMCS/028 - Imtiaz Ahmed Abbasi 94%
2016/MA-MMCS/030 - Jamal Abdul Nasir Dars 55%
2016/MA-MMCS/031 - Jamshed Ali Wighio 68%
2016/MA-MMCS/032 - Khuram Ali Rajar 2%
2016/MA-MMCS/033 - Maiza - Siddiqui 74%
2016/MA-MMCS/034 - Maria - Shaikh 50%
2016/MA-MMCS/035 - Mashal - Jamali 84%
2016/MA-MMCS/036 - Mehnaz - Qureshi 26%
2016/MA-MMCS/037 - Mirza Mohsin Baig Mughal 33%
2016/MA-MMCS/038 - Muddasir - Arain 26%
2016/MA-MMCS/039 - Muhammad Asadullah Yousufzai 50%
2016/MA-MMCS/040 - Muhammad Nabeel Shaikh 71%
2016/MA-MMCS/041 - Muhammad Shuaib Baloch 72%
2016/MA-MMCS/042 - Muhammad Umair Arain 72%
2016/MA-MMCS/043 - Munium Ali Yousufzai Pathan 28%
2016/MA-MMCS/044 - Narmeen - Yousufzai Pathan 61%
2016/MA-MMCS/045 - Neelkanth - Bansari 40%
2016/MA-MMCS/046 - Pir Abdul Wajid Chandio 23%
2016/MA-MMCS/047 - Preetum Kumar Valicha 84%
2016/MA-MMCS/048 - Rajjab Ali Samejo 0%
2016/MA-MMCS/049 - Rasheed Ahmed Nizamani 94%
2016/MA-MMCS/050 - Rehma - Talpur 76%
2016/MA-MMCS/051 - Sabir Hussain Leghari 71%
2016/MA-MMCS/052 - Saddam Hussain Lashari 96%
2016/MA-MMCS/053 - Saher Ali Jakhrani 72%
2016/MA-MMCS/055 - Sana - Shaikh 70%
2016/MA-MMCS/056 - Sana Shah Bukhari Syed 82%
2016/MA-MMCS/057 - Sania - Abbasi 0%
2016/MA-MMCS/058 - Sarwar Hussain Khaskheli 0%
2016/MA-MMCS/059 - Seema - Almani 0%
2016/MA-MMCS/060 - Shahrukh Ali Yousuf Zai Pathan 34%
2016/MA-MMCS/061 - Sumbul Nazeer Pathan 50%
2016/MA-MMCS/062 - Sunny - Bansari 46%
2016/MA-MMCS/063 - Tarique Ali Chandio 68%
2016/MA-MMCS/064 - Tazmeen Rehman Abbasi 63%
2016/MA-MMCS/065 - Toseef Aijaz Qaboolio 11%
2016/MA-MMCS/066 - Waleed - Panhwar 16%
2016/MA-MMCS/067 - Wali Muhammad Kourejo 6%
2016/MA-MMCS/068 - Waseem Ahmed Unar 89%
2016/MA-MMCS/069 - Waseem Sajjad Arain 6%
2016/MA-MMCS/070 - Wasique Ahmed Memon 74%
2016/MA-MMCS/071 - Shahrukh - Shaikh 60%

Thursday, 19 May 2016

Assignment improver failure 2016

Assignment improver failure First Semester 2016
Hard copy
MA Previous
Roll 43  Sohail Ahmed   pieces 4,    Reports 4
2k12/20  Danial Jafar      pieces 4 ,  Reports 4
2k15/ 23 Junaid Khuhro  pieces 4,  Reports 3


2k13/65 M.Asad Abbasi    Pieces 2, Reports Nil
2k/11/ 92 Shahzad Akhtar  Pieces 3, Reports 3

Regular
Profiles received

1) Fariya  2) Sadam Lashari, 3) Imtiaz Abbasi, 4) Rehma Talpur, 5) Abdul Ghaffar, 6) Dur Shahwar,  7) Sana Shaikh, 8) Sattar Lakho,  9) Aakash Hameerani

Question papers
Regular
BS-II News Reporting Major, (Theory and Practice) First semester 2016  Marks 60 time 2 hours

Attempt four questions. Question No 1 is compulsory
1. What is news? Find elements of news in the following news item and how you will further develop this news;
 KARACHI: At least four sustained minor injuries in a clash between two student groups in the Dawood University of Engineering and Technology on Thursday, the Jamshed Quarters police said. The activists belonging to the Imamia Students Organisation and the Punjabi Students Association clashed on the varsity premises in which clubs and stones were used resulting in injuries to four students, the police added. The injured students were discharged from the Civil Hospital Karachi after first medical aid.

2. Writing is skill if so, how? Enumerate the steps of writing.
3.  Is there any importance of letter to the editor?  Suggest tips for writing a good letter to the editor   
4.  What are the essentials of reporting?  How a reporter gathers news
5. Do you think media is free in Pakistan? Which elements control the media?

-----------------------------------------------------------------
Improver failure
BS-II News Reporting News Reporting Major, (Theory and Practice)   First semester 2016   Marks 100 time 2 and half hours

Attempt Five questions. Question No 1 is compulsory

1. What is news? Find elements of news in the following news item and how you will further develop this news;
 KARACHI: At least four sustained minor injuries in a clash between two student groups in the Dawood University of Engineering and Technology on Thursday, the Jamshed Quarters police said. The activists belonging to the Imamia Students Organisation and the Punjabi Students Association clashed on the varsity premises in which clubs and stones were used resulting in injuries to four students, the police added. The injured students were discharged from the Civil Hospital after first medical aid.

2. Writing is skill if so, how? Enumerate the steps of writing.
3.  Is there any importance of letter to the editor?  Suggest tips for writing a good letter to the editor  
4.  What are the essentials of reporting?  How a reporter gathers news
5. Do you think media is free in Pakistan? Which elements control the media?

6. Journalism has set pattern of some principles, by following these principles they take professional approach. Can you elucidate these principles?

NEWSPAPER PRODUCTION (Theory & Practice)

BS-III  1st Semester Regular 2016
Attempt any three questions            Total marks 30     Time: 1and half hours
Q: 1: Editorializing can manipulate the thinking, how? Elucidate elements of editorial emphasis 
Q: 2: What is legal procedure for publishing a newspaper?
Q: 3: Investigative reporting means proactive rather than reactive.   Explain how it is different from routine reporting
Q: 4: Are Sindhi, Urdu and English newspapers different from each other in contents, approach, layout, format and size? Give a comparative study

Regular
M.A Previous
NEWSPAPER PRODUCTION (Theory & Practice)

1st Semester 2016
Attempt four questions            Total marks 50     Time: 2 hours
Question No 5 is compulsory
Q:1: What is legal procedure for publishing a newspaper?
Q: 2: Investigative reporting means proactive rather than reactive.   Explain how it is different from routine reporting 
Q: 4:  How Feature and Article are different from each other?
Q: 5: Write short note on following terms with examples:
a) Profile b) Editorial c) Dateline d) Credit line e) Column f) Logo


----------------
Improver/ failure
NEWSPAPER PRODUCTION (Theory & Practice)
BS-III /MA (Previous) 1st Semester 2016
Attempt any three questions            Total marks 30     Time: 1and half hours
Q: 1: Editorializing can manipulate the thinking, how? Elucidate elements of editorial emphasis 
Q: 2: Write short note on following terms with examples:
a) Profile b) Editorial c) Dateline d) Credit line e) Logo
Q: 3: Investigative reporting means proactive rather than reactive.   Explain how it is different from routine reporting
Q: 4:  What is difference between paid and public service contents? Elaborate with examples. 
  

علی پور Alipur

it is short, 600 words are required
Fareeha Masroor 
FEATURE 
فاریحہ مسرور 
رول نمبر : 23
M.A (Previous)
: علی پور 
انسان کا فطری تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچن کی کچھ اچھی یادیں کچھ اچھی باتیںکچھ خوبیاں کچھ دکھ کچھ قہقہے کچھ آنسو کچھ خواب کچھ اسکول لائف کے دن اور اسکول میںپڑھے کچھ اسباق اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتا ہے اور بار بار ان میں یا ان جیسی چیزوں میں یا ان جیسی جگہوں میں اپنے بچپن کو تلاش کرنا ہے بچپن ہوا سبق باغ کی سیر میرے اندر کچھ نقوش چھوڑ گیا ہے کہ جب میں سیرو سیاحت کو جاتی ہوں اور کوئی باغ دیکھتی ہوں تو بچپن کاپڑھا ہوا باغ کی سیر یادآجاتا ہے اور اس بات سے اپنے باغ کو مشترک کرتی ہوں مگر ہر بار ہی ایسا ہوا کہ میرے بچپن کا باغ دنیا والے باغ سے اور میری ذہنی محفوظی صلاحیتیوں سے کچھ دیر بعد مشترک ہوجاتا ہے ۔لیکن کچھ دن پہلے میرے اور میرے گھر والے سیر کے لئے ماتلی گئے ،ماتلی شہر جو حیدرآباد سے آگے ہے ویسے تو ماتلی چھوٹا سا شہر ہے لیکن اس کی تاریخ 100سال سے زیادہ پرانی ہے ماتلی پہنچنے کے بعد میں اپنے گھر والوں کے ہمراہ علی پور کی سیر کے لئے نکلی دوران سفر سب سے پہلے انصاری شگر مل آئی اور دوسرے ہی لمحے گنے کی خوشبو ناک کو چیرتی ہوئی دماغ کی جڑوں میں پہنچ گئی ارد گرد لہلہاتے کھیت دماغ پر اپنے اثرات چھوڑ رہی تھیں کہ ہر بدلتا منظر اک سے دوسرے کو اپنی خوبصورتی اور دلکشی میں زیر کررہا تھا ماتلی سے 10کلو میٹر دو حیدرآباد چینل کے ساتھ ساتھ سیدھے ہاتھ پر مڑتے ہی درختوں کے دونوں اطراف کی قطاروں نے ہمارا ستقبال کیا علی پور کا نظارہ دیکھتے ہی میں اسکی خوبصورتی میں کھوگئی دراصل علی پور ایک جگہ ہے بے حد خوبصورت جگہ جہاں لوگوں کے صاف ستھرے گھر بنے ہیں علی پور گاﺅں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت اور دلکش باغ کا منظر بھی پیش کرتا ہے بڑی نہر کے متصل دو چھوٹی نہریں اور بڑی نہر کا کا پانی اوپر کو جاکر چھوٹی نہروں میں گرنا جھرنے کا دلکش نظارہ پیش کرتی ہیں اور پھر فروری کی میٹھی میٹھی درخت کی چھاﺅں والی دھوپ اللہ تعالیٰ کی فطرت نمائی کا منظر پیش کررہی ہو درختوں پر بیٹھے پرندے اس خوبصورت وادی کو مزید دلکش بنا رہے تھے وہاں انکی گونجتی اللہ کی حمد و ثناءکی آوازیں کانوں کو دل کو سکون دے رہی تھی۔
حد نظر کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک دے رہے تھے لہلہاتے کھیت گندم کی بالیاں کھیتوں کے گرد چرتی بھینسیں لکڑیوں اور دنبو کے رہوڑ ٹھنڈی ہوا چبھتی دھوپ پرندوں کی حمد و ثناءاور دعوت طعام کچھ ایسے نظارے پیش کررہے تھے جن کو کیمروں میں محفو ظ کیا مگر انکے بیان کے لئے زبان قاصر ہے۔

Practical work under supervision of Sir Sohail Sangi
Media and Communication Studies University of Sindh
 #SohailSangi, #FareehaMasroor, #Alipur,   

لطیف آباد کی لڑکیوں کا یونیورسٹی کی طرف بڑھتا ہوا رحجان Latifabad

Ye article tw nhe lagta. Ap dekhen k article k kia definition hoti hae
ARTICLE
"لطیف آباد کی لڑکیوں کا سندھ یونیورسٹی کی طرف بڑھتا ہوا رحجان"
Fariya Masroor
M.A Previous
Roll # 23 
آرٹیکل  : فاریہ مسرور ایم اے پریوئس فرسٹ سمسٹمر
سندھ یونیورسٹی جامشورو جو کسی تعریف کی محتاج درس گاہ نہیں اور سندھ کی ایک مشہور جامع ہے جس میں پورے سندھ کے طلباء، طلبات علم حاصل کر نے اپنے گھر وں سے گاﺅں سے قصبوں اور شہروں سے آتے ہیں سندھ کی یہ جامع درس گاہ ، درس گاہوں میں اعلیٰ درس گاہ یعنی درس گاہوں کی ماں کا حاصہ حیثیت رکھتی ہے ہر شہر سے آنے والے طلبات کو یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے ہی شہر کے کسی اعلیٰ درس گاہ میں پڑھنے آئے ہوں یہاں کے قابل تعریف لائق اساتذہ اور یہاں کی انتظامیہ یقینً تعریف اور خراج امتیاز کے لائق ہے کہ جنہوں نے دن رات محنت کر کے ایک ایسا ادارہ قائم کردیا ہے جسکی مثال کم و بیش ایشیاءمیں تو ملنے سے قاصر ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ یونیورسٹی اپنے محدود و سائل کو بروحے کار لاتے ہوئے اس حیثیت کی حامل درس گاہ ہوگئی ہے جس کا شمار صفحے اول کی درس گاہوں میں ہوتا ہے یوں تو ہر گاﺅں ہر شہر کی طلباءاور طلبات یہاں علم حاصل کر نے آتے ہیں مگر ان میں خاص طلبات کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ سراسر ذیادتی ہوگی طلبات میں سب سے بڑی تعداد لطیف آباد کے 12 یونٹوں میں سے آنی والی طلبات کی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں اگر ان تمام وجوہات کو ہم سلسلہ وار تحریر کریں تو جامعہ سندھ یونیورسٹی کی افادیت اور اسکی انتظامیہ کے بہت سے پہلو سامنے آئیں گے اسکی ایک اہم وجہ یہاں کا علمی ماحول ہے جسکی وجہ سے طلبات جامعہ سندھ کا رخ کر رہی ہیں علم و نیر کے ساتھ ساتھ یہاں کے علمی ماحول میں ایک دوسرے سے علمی مدد ایک دوسرے کا احترام اور عزت قابل ذکر ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں اساتذہ اور طالبات کی بہت عزت کر تے ہیں اسی وجہ سے کہ لطیف آباد میں رہنے والی لڑکیاں کسی قسم کا ڈریا شک دل میں لئے بغیر یونیورسٹی کارخ کرتی ہیں ۔ سندھ کی قدیم تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ سندھ میں عورت کو عزت کے اعتبار سے ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ اسکی تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ لطیف آباد میں رہنے والی لڑکیاں اپنی تعلیم کے بعد اس ہنر کو استعمال بھی کرتی ہیں جاب کی صورت میں ان تمام ملی جلی وجہوں سے ہی آج یونیورسٹی میں بڑی تعداد لطیف آباد سے آنے والی لڑکیوں کی ہے ۔

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi 
 #GirlsEducation, #Latifabad, #Hyderabad, #SohailSangi,#FareehaMasroor,

Sunday, 3 April 2016

استاد ۽ اديب تيرٿ داس اميداڻي پروفائيل Teerathdas Umedani

 Compare contrast, reference of the specialty of area, to which he belongs, community,create some images, that will enrich ur profile 
Abdul Razaq Kumbhar
استاد ۽ اديب سائين تيرٿ داس اميداڻي
پروفائيل
عبدالرزاق ڪنڀر ، ايم ، اي پريوس رول نمبر، 03

سائين تيرٿ داس اميداڻي علم ۽ ادب سان چاھ رکندڙ شخصيت جو مالڪ آهي. هن نه صرف علم لاءِ پاڻ پتوڙيو آهي پر ان جي تمام گھڻي خدمت به ڪئي آهي. پاڻ تاريخ22 نومبر 1946ع ڌاري ڳوٺ نصير خان لغاري نزد چمبڙ ۾ ڌرتي ماتا جي  دامن ۾ جنم ورتو.  پرائمري تعليم  پنهنجي آبائي ڳوٺ گورنمنٽ اسڪول نصير خان لغاري مان حاصل ڪيائين، چوٿون ۽ پنجون ڪلاس اسلاميه مڊل اسڪول مسڻ وڏي ۾ پڙهيو، جتي عربي سبجيڪٽ وڏي شوق ۽ ذوق سان پڙهيائون. مئٽرڪ سال 1963 ع ۾ سنڌ ماڊل هاءِ اسڪول ٽنڊو الهيار مان پاس ڪيائون، بي، اي 1968ع۽ ايم، اي 1971ع ۾ سنڌ يونيورسٽي مان پاس ڪيائين . پروفيشنل ڪوالفڪيشن جي حوالي سان بي ايڊ ۽ ايم ايڊ اولڊ ڪئمپس حيدرآباد مان  پاس ڪيائون..

سروس لاءِ ٻئي ڪنهن محڪمي کي پسند ڪرڻ بجاءِ تعليم کي ئي پسند ڪيائون، ڇو ته هي  مهان پيشو آهي جنهن سان نه رڳو انسان کي ڄاڻ ملي ٿي پر مان سمان، عزت ۽ آبرو پڻ وڌي ٿي. تاريخ 1964_ 5_12 ع تي گورنمنٽ مڊل اسڪول مبارڪ جروار ۾ انگلش ٽيچر طور ڀرتي ٿيا. ۽ پوءِ ٽنڊو الهيار جي مختلف اسڪولن ۾ پنهنجي علم جا جوهر ڏيکاريندا رهيا، جن ۾ گورنمنٽ مڊل اسڪول پاڪ سنگھار، گورنمنٽ هائير سيڪينڊري اسڪول چمبڙ، هاءِ اسڪول تاج پور،مڊل اسڪول پيارو لنڊ، هاءِ اسڪول سنجر چانگ،  هاءِ اسڪول خير محمد جروار،پاڻ هڪ نان مسلم ٽيچر ٿي ڪري عربي سبجيڪٽ ۾ تمام گھڻي دلچسپي رکندا هئا، سندن قوک مطابق پندرهن سال عربي جو سبجيڪٽ پڙهايائون. ان کان علاوه پاڻ سپر وائيزر به رهيا آهن. آخر ۾ گورنمنٽ هائير سيڪينڊري اسڪول چمبڙ مان  پرنسپل جي عهدي تان رضاڪارانه طور رٽائرمنٽ ورتائين.

سائين تيرٿ داس اميداڻي ماسٽر ٽرينر۽ ٽيوٽر طور به ڪافي خدمتون سرانجام ڏنيون آهن. ادبي ميدان ۾ 1971ع ۾ پير پاتائين، پاڻ نه صرف ڪهاڻيڪار آهن پر تحقيق ۽ تاريخ ۾ به سٺي ڄاڻ رکن ٿا. ادبي خدمتن جي حوالي سان سندن مذهبي ڪاوشون ڪافي آهن، جن ۾، “رنگ مالا ” نالي هڪ ڪتاب لکيو هيائون جيڪو سندر شيوا منڊلي ڪوٽڙي وارن جي طرفان 1972ع ۾ ڇپيو هو. سندن جيڪي ڪتاب شايع ٿي چڪا آهن انهن ۾ شڀ تهوار، گيان پرڪاش، ايشور اپاسنا، آتم درشن، ديوالي پوجن۽ شري ڀڳوان جا 108 نالا، ويد اپديش، سورنهن سنسڪار، ۽آنند ساگر آهن.

ان کان علاوه هندي ٻولي مان به ڪافي ڪتاب سنڌي ٻولي ۾ ترجمو ڪيا آهن جن ۾ شري راما پير، گرڙ پراڻ،  سانوڻ مهاتم، گرو گورک اپديش وغيره شامل آهن. ڪهاڻين جي ڪتابن ۾ ڪوئل جي پڪار، ديوانو دوست،  جي ڪٺيون تڪبير، صندوق ۾ سمنڊ ۽ دل جي دري مان پکي جو پرواز شامل آهن. سائين تيرٿ داس اميداڻي جا وقتن فوقتن مختلف اخبارن ۾ ڪالم، مضمون، تحقيقي مقاله ۽ڪهاڻيون پڻ شايع ٿين ٿيون. پاڻ هڪ سٺا مترجم به آهن آفريڪن ناول “ ٿنگس فال اپارٽ ” سنڌي ۾ ترجمو ڪيو اٿن، هن وقت سائين تيرٿ داس  رگ ويد جو هندي مان سنڌي ۾ ترجمو ڪري رهيا آهن .ميگهواڙن جي تاريخ تي هڪ تمام بهترين ڪتاب “ ميگھ ونس اتهاس” لکي پنهنجي برادري جي مٿان عظيم احسان ڪيو اٿن،  

سائين تيرٿ داس اميداڻي کي پنهنجي ڪيل خدمتن عيوض مختلف ادارن کان ايوارڊ پڻ مليا آهن جن ۾ روحل ادبي اڪيڊمي طرفان ميگھ ونس اتهاس ڪتاب تي مڃتا ايوارڊ ڏنو ويو. ڊويزنل ايجوڪيشن ٽنڊو الهيار طرفان بيسٽ پرفارمنس ايوارڊ ڏنو ويو،  بيسٽ ٽيچر ايوارڊ، کاو علاوه ٽا ئون ڪاميٽي چمبڙ طرفان به کين مختلف ايوارڊن سان نوازيو ويو.
         سندن علمي خدمتن جو باب تاريخ ۾ هميشه زنده رهندو، ڇو ته اهڙا محنتي ۽ فرض شناس استاد تمام گھٽ ملندا آهن

Profile of Teerath Das Umedani byAbdul Razaq Kumbhar, MA previous, 
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, University of Sindh.

#Profile,  #TeerathDasUmedani,  #Abdul RazaqKumbhar,